امریکا کے معروف اے آئی کمپنی اوپن اے آئی نے ایک نئی فنڈنگ راؤنڈ میں حیران کن طور پر 122 ارب ڈالر اکٹھے کر لیے ہیں، جس کے بعد کمپنی کی مجموعی مالیت 852 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فنڈنگ نہ صرف اے آئی کی دنیا میں انقلاب لا سکتی ہے بلکہ مستقبل میں معیشت، روزگار اور روزمرہ زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔
اے ایف پی کے مطابق اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کی جائے گی، جس میں طاقتور کمپیوٹنگ سسٹمز اور جدید ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
اوپن اے آئی نے انکشاف کیا کہ اس کی ماہانہ آمدنی 2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ اس کی مقبول ترین پروڈکٹ چیٹ جی پی ٹی کے ہفتہ وار صارفین کی تعداد 900 ملین سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں 50 ملین بامعاوضہ سبسکرائبرز شامل ہیں۔
اس بڑے فنڈنگ راؤنڈ میں مائیکرو سافٹ، ایمیزون، این ویڈیااور سافٹ بینکجیسے بڑے سرمایہ کاروں نے حصہ لیا، جبکہ تقریباً 3 ارب ڈالر انفرادی سرمایہ کاروں سے حاصل کیے گئے۔
کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ایک “سپر ایپ” تیار کر رہی ہے، جس میں چیٹ جی پی ٹی، انٹرنیٹ سرچ، کوڈنگ ٹول اور خودکار اے آئی ایجنٹس کو یکجا کیا جائے گا تاکہ صارفین کے روزمرہ کام آسان بنائے جا سکیں۔
دوسری جانب مقابلہ بھی تیز ہو رہا ہے، جہاں اینتھروپک اپنے کلاؤڈ ماڈلز کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ گوگل کا جیمنئی اور ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی بھی میدان میں موجود ہیں۔
یہ بڑی سرمایہ کاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اوپن اے آئی کے ممکنہ طور پر اسٹاک مارکیٹ میں آنے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔









