امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج ایران میں اپنی کارروائیاں بہت جلد ختم کر دیں گی، چاہے ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو۔تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر امریکا واقعی ایران سے نکل جاتا ہے تو اس کے عالمی سیاست، توانائی کی منڈی اور مشرق وسطیٰ کے استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اگلے دو سے تین ہفتوں میں اپنا کام مکمل کر لے گا اور اس کے بعد ایران سے نکل جائے گا۔ یہ انخلا کسی معاہدے سے مشروط نہیں ہوگا۔ چاہے ڈیل ہو یا نہ ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تیل بردار جہازوں کے لیے مؤثر طور پر بند کر دیا ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادی ممالک کو بھی سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود جا کر اپنا تیل حاصل کریں۔ امریکا اب ہر مسئلہ حل کرنے نہیں آئے گا،” انہوں نے کہا۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی کہا کہ آنے والے دن فیصلہ کن ہوں گے اور ایران کے پاس فوجی طور پر زیادہ آپشنز باقی نہیں رہے۔وہ خفیہ طور پر مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج سے ملاقات کر چکے ہیں، تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مقامات ظاہر نہیں کیے گئے۔









