مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے اے آئی کوڈنگ ٹول کا کچھ اندرونی سورس کوڈ غلطی سے لیک ہو گیا۔
کمپنی کے مطابق یہ واقعہ انسانی غلطی کے باعث پیش آیا، جب ایک سافٹ ویئر اپڈیٹ کے دوران ایک اندرونی فائل غلطی سے شامل ہو گئی، جس میں تقریباً 2 ہزار فائلز اور 5 لاکھ لائنز پر مشتمل کوڈ کا لنک موجود تھا۔ یہ کوڈ بعد ازاں ڈویلپر پلیٹ فارم گٹ ہب پر تیزی سے شیئر ہو گیا، جہاں سے اسے متعدد افراد نے کاپی بھی کر لیا۔
اینتھروپک کے ترجمان نے وضاحت کی کہ اس لیک میں کسی صارف کا حساس ڈیٹا یا لاگ اِن معلومات شامل نہیں تھیں، اور اسے سیکیورٹی بریک نہیں بلکہ ریلیز پیکجنگ کی غلطی قرار دیا گیا۔
لیک ہونے والا کوڈ کلاؤڈ کوڈکے اندرونی ڈھانچے سے متعلق تھا، جبکہ بنیادی اے آئی ماڈل کلاؤڈکا حساس ڈیٹا محفوظ رہا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اس لیک سے متعلق ایک پوسٹ کو 29 ملین سے زائد بار دیکھا گیا، جس سے اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی 2025 میں اینتھروپک کے ایک ورژن کا سورس کوڈ سامنے آ چکا ہے، جبکہ بعض ڈویلپرز پہلے ہی اس ٹول کو ریورس انجینئر کر چکے تھے۔









