اہم ترین

اسپین میں مصر کے خلاف فٹبال میچ کے دوران اسلام مخالف نعرے

اسپین میں مصر کے خلاف کھیلے گئے دوستانہ فٹبال میچ کے دوران اسلام مخالف اور نسل پرستانہ نعروں کے بعد پولیس نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

کاتالونیا کی علاقائی پولیس موسوس دِ اسکوادرا نے اعلان کیا ہے کہ بارسلونا کے آر سی ڈی ای اسٹیڈیم میں ہونے والے اس میچ کے دوران لگائے گئے اسلاموفوبک اور زینوفوبک نعروں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ منگل کو ہونے والا یہ میچ 0-0 سے برابر رہا، تاہم اسٹیڈیم میں موجود شائقین کے ایک گروہ کے رویے نے کھیل کو متنازع بنا دیا۔

میچ سے قبل مصر کے قومی ترانے کے دوران ہوٹنگ کی گئی جبکہ حکام کو متعدد بار پبلک اناؤنسمنٹ سسٹم کے ذریعے شائقین کو نازیبا زبان استعمال کرنے سے روکنے کی اپیل کرنا پڑی۔

اسپین کے وزیرِ انصاف فیلیکس بولانوس نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ “نسل پرستانہ نعرے ہماری معاشرتی اقدار کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ نفرت پھیلانے والے عناصر کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اسپین کے قومی فٹبال کوچ لوئس دے لا فوینتے نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابلِ برداشت ہے، ایسے لوگوں کو معاشرے سے الگ کرنا ضروری ہے۔

دوسری جانب ہسپانوی فٹبال فیڈریشن کے صدر رافائل لوزان نے اس واقعے کو محدود اور انفرادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے رویوں کی مذمت کی جاتی ہے اور انہیں ہرگز دہرایا نہیں جانا چاہیے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اسپین میں فٹبال کے دوران نسل پرستی کے واقعات پہلے ہی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، خاص طور پر وینیسیئس جونیئر کے خلاف ہونے والی بار بار کی نسلی بدسلوکی کے بعد۔

یاد رہے کہ یہ میچ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث قطر سے منتقل کرکے بارسلونا میں کھیلا گیا تھا، جہاں آغاز سے ہی ماحول کشیدہ رہا۔

پاکستان