آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نے تفریح کی دنیا میں ایک نیا اور عجیب و غریب رخ اختیار کر لیا ہے۔ ٹِک ٹاک پر اے آئی کے ذریعے تیار کردہ ایک مائیکرو سیریز فروٹ لو آئی لینڈ ان دنوں وائرل ہے، جس نے کروڑوں ناظرین کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق مشہور برطانوی ریئیلٹی شو لو آئی لینڈ کی طرز پر بنی اس سیریز کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے تمام شرکاء انسان نہیں بلکہ انسانی مشابہت رکھنے والے پرکشش پھل ہیں۔ ان کرداروں میں اسٹرابیری نا اور شرٹ کے بٹن کھولے کسرتی بدن والا ‘بنانو’ (کیلا) شامل ہیں۔ یہ کردار ریئیلٹی شوز کے روایتی ڈراموں، رومانوی مثلث اور جذباتی جوڑوں کی بھرپور پیروڈی (مذاق) کرتے نظر آتے ہیں۔
سیریز کی میزبانی ایک پرکشش سبز سیب کر رہا ہے۔ اس شو کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی سب سے مشہور قسط، نیو ڈیٹس، نیو ڈاؤٹس کو صرف دو ہفتوں میں 39 ملین (3 کروڑ 90 لاکھ) سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔ جب کہ 2025 کے بڑے بجٹ والے یورو وژن سونگ کانٹیسٹ کی رسائی 166 ملین افراد تک تھی۔
جہاں ایک طرف لاکھوں لوگ ان ویڈیوز سے محظوظ ہو رہے ہیں، وہیں ناقدین اسے اے آئی سلوپ یعنی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایسا غیر معیاری مواد قرار دے رہے ہیں جو صرف سستی شہرت کے لیے بنایا گیا ہو۔
یونیورسٹی آف لیڈز کی لیکچرر لوڈمیلا لوپیناکی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مواد کی مانگ اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ لوگ سوشل میڈیا پر موجود تلخ حقائق، تشدد اور تناؤ سے بچنے کے لیے چند لمحوں کا ہنسی مذاق چاہتے ہیں۔
یہ سیریز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اوپن اے آئی نے اپنی ویڈیو ایپ ‘سورا’ کو بند کرنے کا اشارہ دیا ہے، جبکہ چینی ویڈیو جنریٹرز جیسے ‘سی ڈانس 2.0’ اپنی بہترین کوالٹی سے تخلیقی صنعت کو حیران کر رہے ہیں۔
فروٹ لو آئی لینڈ کی کامیابی نے ٹِک ٹاک پر کئی جعلی اکاؤنٹس کو بھی جنم دیا ہے جو اس کی نقل کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ان ویڈیوز میں اے آئی کی چھوٹی موٹی غلطیاں (جیسے کسی کردار کے ہاتھ کا رنگ اچانک بدل جانا) ہی شاید اسے مزید مضحکہ خیز اور دلچسپ بناتی ہیں، جسے لوگ ‘ہیٹ واچنگ’ (تنقید کے لیے دیکھنا) کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔










