اہم ترین

یوکرینی دارالحکومت پر رواں ماہ کا پانچواں بڑا روسی حملہ، متعدد مقامات کو نقصان

روس نے منگل کی علی الصبح یوکرین کے دارالحکومت کییف پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملے کیے، جنہیں رواں ماہ شہر پر ہونے والا پانچواں بڑا فضائی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق حملوں میں دارالحکومت کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان فضائی کارروائیوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ حملوں کے نتیجے میں کییف میں کم از کم 16 مقامات کو نقصان پہنچا، جن میں ایک اسکول، ایک کاروباری مرکز اور دیگر عمارتیں شامل ہیں۔ شہر کی انتظامیہ کے مطابق مختلف علاقوں میں آگ لگنے کے کئی واقعات بھی پیش آئے، جن پر قابو پانے کے لیے ہنگامی امدادی ٹیمیں متحرک رہیں۔

زیلنسکی کے مطابق روس نے جنوبی یوکرین میں اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ مشرقی خارکیف کے علاقے میں سات افراد اور شمالی چرنیہیو ریجن میں تین افراد زخمی ہوئے۔

یوکرینی صدر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات روس نے ملک کے مختلف شہروں اور آبادیوں پر مجموعی طور پر 135 ڈرونز اور 10 میزائل داغے، جن میں زیادہ تر بیلسٹک میزائل شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ روس پر بین الاقوامی دباؤ مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

زیلنسکی نے یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ روس کے خلاف نئی پابندیوں کے پیکج کی جلد منظوری دیں تاکہ ماسکو کی جنگی صلاحیت کو محدود کیا جا سکے۔

دوسری جانب یوکرین نے بھی روس کے اندر ڈرون حملوں میں تیزی لاتے ہوئے اسلحہ سازی کے مراکز اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ کییف کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد روس کی جنگ جاری رکھنے کی معاشی اور صنعتی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

روسی حکام کے مطابق جنوبی کراسنودار ریجن میں واقع افیپسکی آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی، جبکہ باشکورتوستان کے علاقے میں سلاوات کے ایک صنعتی زون میں بھی ڈرون کا ملبہ گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ادھر روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اس ہفتے خبردار کیا ہے کہ روسی سرزمین پر یوکرینی حملوں کا جواب مزید طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔ ان کے بقول روس کے آئندہ جوابی حملے “کئی گنا زیادہ طاقتور” ہوں گے اور ان کا دائرۂ کار بھی پہلے سے زیادہ وسیع ہوگا۔

روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کے خلاف کیے گئے حملوں اور نقصانات سے متعلق متعدد دعوے کیے ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

پاکستان