سوئٹزرلینڈ کے مسابقتی نگران ادارے کمیشن فار کمپٹیشن (کومکو) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اینڈرائیڈ ڈیوائسز پر گوگل کی جانب سے چوائس اسکرین فیچر ختم کیے جانے کے معاملے پر ابتدائی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اس فیچر کے ذریعے صارفین کو نیا اینڈرائیڈ فون پہلی بار سیٹ اپ کرتے وقت اپنی پسند کا ڈیفالٹ سرچ انجن منتخب کرنے کا اختیار دیا جاتا تھا۔ تاہم سوئس حکام کے مطابق گوگل نے حال ہی میں یہ سہولت سوئٹزرلینڈ میں ختم کر دی ہے، جس کے نتیجے میں گوگل سرچ خودکار طور پر ڈیفالٹ سرچ انجن کے طور پر استعمال ہو رہا ہے اور صارفین کو متبادل سرچ انجن منتخب کرنے کا آپشن نہیں دیا جا رہا۔
سوئس مسابقتی ادارے کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے گوگل کے حریف سرچ انجنوں کی صارفین تک رسائی محدود ہو سکتی ہے، جس سے مارکیٹ میں نئی کمپنیوں کے لیے مقابلہ کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
ادارے کے مطابق یہ پالیسی نہ صرف سرچ انجن فراہم کرنے والوں بلکہ دیگر ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کی مسابقتی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ حکام نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ سوئٹزرلینڈ کے صارفین کے ساتھ یورپی اقتصادی علاقے (ای ای اے) کے صارفین کے مقابلے میں مختلف رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، حالانکہ دونوں خطوں میں مسابقت سے متعلق خدشات ایک جیسے ہیں۔
کومکو کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آیا گوگل کا یہ اقدام سوئٹزرلینڈ کے کارٹیل ایکٹ کے تحت غیر قانونی طور پر مسابقت محدود کرنے کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب گوگل نے کہا ہے کہ وہ تحقیقات سے آگاہ ہے اور سوئس حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا تاکہ ان کے سوالات کے جواب دیے جا سکیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں ماہ یورپی یونین کی اعلیٰ عدالت نے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم سے متعلق مسابقت مخالف طرزِ عمل کے مقدمے میں گوگل پر عائد 4.1 ارب یورو جرمانے کو برقرار رکھا تھا۔ یورپی کمیشن کا مؤقف تھا کہ گوگل نے اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں پر اپنے سرچ انجن اور کروم براؤزر کو پہلے سے انسٹال کرنے کے لیے دباؤ ڈال کر مسابقت کو نقصان پہنچایا۔










