اہم ترین

یوکرین میں سیاسی تبدیلی: وزیر اعظم مستعفی

روس کے ساتھ جاری جنگ کے دوران یوکرین میں اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وزیراعظم یولیا سویریڈینکو نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ صدر وولودیمیر زیلنسکی کی جانب سے شروع کیے گئے حکومتی ردوبدل کا حصہ ہے۔

یوکرینی پارلیمنٹ نے ووٹنگ کے ذریعے یولیا سویریڈینکو کا استعفیٰ باضابطہ طور پر منظور کر لیا۔ تاہم صدر زیلنسکی نے تاحال نئے وزیراعظم کے نام کا اعلان نہیں کیا۔

صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش “نئے چیلنجز اور نئی ذمہ داریوں” کے پیش نظر حکومت کی سیاسی حکمت عملی تبدیل کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مختلف شعبوں، خصوصاً خارجہ امور، کی نگرانی کے لیے نئی ذمہ داریاں مختلف شخصیات کو سونپی جائیں گی۔

یولیا سویریڈینکو جولائی 2025 میں وزیراعظم بنی تھیں اور انہیں امریکی حکام کے ساتھ قریبی ورکنگ تعلقات رکھنے والی رہنما سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ معدنیات میں سرمایہ کاری سے متعلق ایک اہم معاہدے پر مذاکرات میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق صدر زیلنسکی نے انہیں ایک نئے عہدے کی پیشکش کی ہے، جس میں وہ یوکرین کے ایک اہم بین الاقوامی شراکت دار کے ساتھ تعلقات کی نگرانی کریں گی، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یہ حکومتی تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس نے یوکرین پر بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جبکہ کییف امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کی مقامی سطح پر تیاری کے منصوبے پر بھی کام کر رہا ہے۔

یوکرینی میڈیا کے مطابق سرکاری توانائی کمپنی نافٹوگاز کے چیف ایگزیکٹو سرگئی کوریٹسکی کو وزارتِ عظمیٰ کا مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر زیلنسکی نے گزشتہ ہفتے ان سے ملاقات بھی کی تھی اور توانائی کے شعبے میں ان کی قیادت کو سراہا تھا۔

یوکرین میں توانائی کا شعبہ اس وقت خاص اہمیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ روسی حملوں کے باعث بجلی کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں بجلی کی طویل بندش معمول بن چکی ہے، خصوصاً موسمِ سرما کے دوران۔

پاکستان