اہم ترین

بھارت کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک

بین الاقوامی رینسم ویئر گروپ ورلڈ لیکس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بھارت کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق ہزاروں حساس دستاویزات ڈارک ویب پر جاری کر دی ہیں، جس کے بعد ملک کے اہم انفراسٹرکچر کی سائبر سکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لیک ہونے والے ریکارڈ میں پلانٹ کے تیسرے اور چوتھے یونٹ سے متعلق بعض حصوں کے انجینئرنگ نقشے، سپلائرز کی تفصیلات، معائنہ رپورٹس، اجلاسوں کے ریکارڈ، آلات کے جائزے اور انشورنس دستاویزات شامل ہیں۔ رائٹرز نے ان دستاویزات کا جائزہ لیا، تاہم ان کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

ہیکرز کا دعویٰ ہے کہ یہ معلومات انیل امبانی کے ریلائنس گروپ سے حاصل کی گئیں۔ ریلائنس گروپ نے تصدیق کی ہے کہ اس کے ایک تھرڈ پارٹی ڈیٹا سینٹر پر موجود سرور میں جزوی ڈیٹا بریچ ہوا، تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سا ڈیٹا متاثر ہوا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق بھارتی حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رینسم ویئر گروپ نے ریلائنس سے متعلق تقریباً 8 لاکھ 58 ہزار فائلیں حاصل کرنے کا دعویٰ کیا، جن میں سے لگ بھگ 19 ہزار فائلیں کڈنکولم منصوبے سے متعلق حساس نوعیت کی بتائی جا رہی ہیں۔

سائبر سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ جوہری ری ایکٹر کے بنیادی کنٹرول سسٹمز متاثر ہوئے ہیں، تاہم تنصیبات کے نقشوں اور تکنیکی معلومات کا افشا ہونا قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے اور حساس انفراسٹرکچر کی کمزوریوں کی نشاندہی میں مدد دے سکتا ہے۔

کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارتی ریاست تمل ناڈو میں واقع ہے اور اسے بھارت کے سات جوہری بجلی گھروں میں سب سے بڑا منصوبہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تیسرے اور چوتھے یونٹس کی تعمیر میں ریلائنس انفراسٹرکچر بطور کنٹریکٹر شامل ہے، جبکہ جوہری ری ایکٹر کے بنیادی نظام روسی ادارے روس ایٹم کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں، اور لیک ہونے والی دستاویزات میں ان بنیادی ری ایکٹر سسٹمز سے متعلق معلومات شامل نہیں دکھائی دیتیں۔

دوسری جانب بھارتی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا اور متعلقہ ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں، جبکہ بھارتی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

پاکستان