مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹس جیسے چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ اور جیمنی کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت نے جہاں روزمرہ زندگی، تعلیم اور دفاتر میں کام آسان بنا دیا ہے، وہیں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان ٹولز پر ضرورت سے زیادہ انحصار انسانی دماغ کی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق حالیہ سائنسی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ای میل لکھنے، کوڈنگ، ترجمہ، منصوبہ بندی اور دیگر ذہنی کام مصنوعی ذہانت کے سپرد کرنے سے یادداشت، تنقیدی سوچ، فیصلہ سازی اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
امریکی اور برطانوی ماہرین کی جانب سے کی گئی مشترکہ تحقیق میں 1222 افراد نے حصہ لیا، تحقیق کے دوران پایا گیا کہ اے آئی ٹولز استعمال کرنے والے افراد نے ریاضی اور مطالعے سے متعلق مشقوں میں ابتدائی طور پر بہتر کارکردگی دکھائی، تاہم طویل مدت میں ان کی کارکردگی اور بغیر اے آئی کے مسائل حل کرنے کا جذبہ کمزور پڑ گیا۔ مسلسل کوشش اور خود سیکھنے کی عادت ہی دیرپا مہارتوں کی بنیاد ہوتی ہے، جسے اے آئی پر انحصار متاثر کر سکتا ہے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور کارنیگی میلن یونیورسٹی کی محقق گریس لیو کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسے تقریباً ہر ذہنی سرگرمی میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے باعث لوگ خود سیکھنے اور سوچنے کے مواقع سے محروم ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب 2025 میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کی ایک تحقیق میں بھی یہ نتیجہ سامنے آیا تھا کہ مضمون نویسی کے لیے جن طلبہ نے جنریٹو اے آئی کا استعمال کیا، ان میں تنقیدی سوچ کی صلاحیت نسبتاً کم دیکھی گئی۔ ماہرین اس رجحان کو “کگنیٹو آف لوڈنگ” یا “کگنیٹو سرنڈر” یعنی ذہنی ذمہ داری مصنوعی ذہانت کے سپرد کر دینے سے تعبیر کرتے ہیں۔
فرانس کے قومی تحقیقی ادارے سی این آرایس سے وابستہ سماجی و ادراکی نفسیات کے ماہر یوہان شیوالیر کے مطابق انسانی دماغ فطری طور پر کم توانائی خرچ کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اگر کوئی ذہنی سرگرمی مسلسل نہ کی جائے تو دماغ اس سے متعلق اعصابی روابط کو آہستہ آہستہ کمزور کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ان کے بقول اے آئی کا بڑھتا استعمال اس رجحان کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
ان خدشات کے پیش نظر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی اپنے اے آئی سسٹمز میں ایسی خصوصیات شامل کرنا شروع کر دی ہیں جو صارفین کو براہِ راست جواب دینے کے بجائے خود سوچنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی میں “اسٹڈی موڈ” جبکہ گوگل نے جیمنی میں “گائیڈڈ لرننگ” فیچر متعارف کرایا ہے، تاکہ طلبہ اور دیگر صارفین خود استدلال اور تجزیے کی عادت برقرار رکھ سکیں۔
اسی طرح مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے کوپی لوٹ سسٹم میں صارفین کو معلومات کی تصدیق اور تنقیدی جائزہ لینے کی یاددہانی شامل کی ہے۔










