اہم ترین

آئی سی سی کے فیصلے: کرکٹ کینیڈا کی معطلی اور فرانس کی نگرانی برقرار ، ویسٹ اندیز کےلیے قرض منظور

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنے سالانہ اجلاس کے بعد کئی اہم فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے ماریشس کرکٹ کو تنظیم کا 111واں رکن تسلیم کر لیا ہے، جبکہ فرانس کرکٹ کو رکنیت کے معیار پر ممکنہ خلاف ورزیوں کے باعث نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

آئی سی سی بورڈ اجلاس میں کرکٹ سے متعلق انتظامی، مالی اور رکنیت کے معاملات پر اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں کرکٹ ویسٹ انڈیز کے لیے 12.82 ملین امریکی ڈالر قرض کی منظوری بھی دی گئی، جبکہ معطل شدہ کرکٹ کینیڈا کی بحالی کے لیے شرائط طے کر دی گئیں۔

آئی سی سی کے مطابق فرانس کرکٹ نے تنظیم کے رکنیت کے معیار سے متعلق بعض تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے، جس پر اسے “نوٹس” پر رکھا گیا ہے، تاہم فوری طور پر کوئی تادیبی کارروائی یا سزا کا اعلان نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب سری لنکا کرکٹ کے آئینی اصلاحاتی عمل میں پیش رفت کو تسلیم کیا گیا، تاہم آئی سی سی نے زور دیا کہ ملک میں کرکٹ بورڈ کے انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں۔ سری لنکا کرکٹ کو فی الحال آئی سی سی بورڈ اجلاسوں میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

یاد رہے کہ سری لنکا میں حکومتی مداخلت کے بعد کرکٹ بورڈ میں بڑی انتظامی تبدیلیاں کی گئی تھیں، جس کے نتیجے میں منتخب بورڈ کو ہٹا کر ایک عبوری کمیٹی قائم کی گئی تھی۔

آئی سی سی نے گورننس اور فرنچائز لیگز کے معاملات کے لیے دو نئی ذیلی کمیٹیاں بھی قائم کر دی ہیں۔

گورننس ریویو کمیٹی کی سربراہی بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا کریں گے، جبکہ اس میں جنوبی افریقہ کرکٹ کے محمد موسیجی اور آئی سی سی کے آزاد ڈائریکٹر ڈاکٹر روز ریواز شامل ہوں گے۔

اسی طرح فرنچائز لیگز کمیٹی میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر تمیم اقبال، نمیبیا کرکٹ کے رُڈی وان وُورن، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے رچرڈ گولڈ، کرکٹ آسٹریلیا کے ٹوڈ گرین برگ اور دیواجیت سائیکیا شامل ہوں گے۔

آئی سی سی نے جون میں رکنیت کی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزیوں پر کرکٹ کینیڈا کو معطل کیا تھا۔ کینیڈین بورڈ نے بحالی کے لیے جامع ایکشن پلان جمع کرانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ معطلی ختم ہونے سے پہلے مخصوص شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

آئی سی سی کے تازہ فیصلوں کو عالمی کرکٹ کے انتظامی ڈھانچے، چھوٹی کرکٹ اقوام کی شمولیت اور بورڈز کی گورننس بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان