اہم ترین

مصر کے شہر اقصر کے قریب 3000 سال پرانا مقبرہ دریافت

مصر کے تاریخی شہر اقصر (لکسر) کے قریب ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے تقریباً تین ہزار سال قدیم ایک مقبرہ دریافت کیا ہے، جسے قدیم مصری تہذیب کے اہم ادوار میں سے ایک سے جوڑا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت نہ صرف مصر کے شاندار ماضی پر مزید روشنی ڈالے گی بلکہ ملک کی سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

مصر کی وزارتِ سیاحت و نوادرات کے مطابق یہ اہم دریافت نیدرلینڈز کی لیڈن یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم نے اقصر کے مغربی کنارے پر واقع تاریخی قبرستان شیخ عبد القرنہ میں کی۔ یہ علاقہ قدیم مصر کے اعلیٰ حکام، شاہی درباریوں اور مذہبی شخصیات کے مقبروں کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔

ماہرین کے مطابق دریافت ہونے والا مقبرہ باسر نامی ایک بااثر شخصیت سے منسوب کیا جا رہا ہے، جو قدیم مصر کے رمیسائی دور میں اہم سرکاری عہدے پر فائز تھا۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ باسر نے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں اور بعد ازاں وہ قدیم مصری مذہبی مرکز میں دیوتا آمون کے اعلیٰ پادری کے منصب تک پہنچا۔

آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبرے کی تعمیر، دیواروں پر موجود نقوش اور فنِ تعمیر کے انداز سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مصر کے نیو کنگڈم دور (تقریباً 1570 سے 1069 قبل مسیح) سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مصر سیاسی، فوجی اور ثقافتی اعتبار سے دنیا کی طاقتور ترین تہذیبوں میں شمار ہوتا تھا۔

دریافت ہونے والے مقبرے کی ساخت بھی قدیم طیبی مقبروں کے روایتی انداز کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں ایک کھلا صحن، چٹان کو تراش کر بنایا گیا عبادت گاہ نما حصہ اور زمین کے اندر تدفینی کمرے شامل ہیں۔

کھدائی کے دوران ماہرین کو کئی اہم تعمیراتی باقیات بھی ملیں، جن میں مٹی کی اینٹوں سے بنی ایک نشست، یادگاری کتبے کے لیے مخصوص جگہ، داخلی راستے کی سیڑھیاں اور اطراف میں بنے ڈھلوانی راستے شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عناصر اس دور کے تدفینی فن اور سماجی حیثیت کو سمجھنے میں مدد دیں گے۔

تحقیقی ٹیم مزید سائنسی جائزوں، دستاویزات اور تجزیوں پر کام کر رہی ہے تاکہ مقبرے سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا سکیں اور یہ واضح ہو سکے کہ یہاں مدفون شخصیت کا قدیم مصری ریاست میں اصل کردار کیا تھا۔

اقصر کو دنیا کے اہم ترین آثارِ قدیمہ کے مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہی خطہ قدیم مصری شہر تھیبس کا حصہ تھا، جو کئی صدیوں تک مصر کا مذہبی اور سیاسی مرکز رہا۔ یہاں موجود وادیٔ ملوک میں متعدد فرعونوں کے مقبرے دریافت ہو چکے ہیں، جن میں مشہور فرعون توتن خامن کا مقبرہ بھی شامل ہے۔

مصر حالیہ برسوں میں آثارِ قدیمہ کی نئی دریافتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہا ہے تاکہ سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔ سیاحت مصر کی معیشت کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور حکومت تاریخی مقامات کو مزید نمایاں کرکے دنیا بھر سے سیاحوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اقصر کے قریب سامنے آنے والی یہ نئی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہزاروں سال پرانی مصری تہذیب کے کئی راز اب بھی زمین کے نیچے محفوظ ہیں، جو آنے والے برسوں میں مزید تحقیق کے ذریعے سامنے آ سکتے ہی

پاکستان