امریکہ محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ اسے ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ امریکی حکومت نے خلائی مخلوق سے متعلق حقائق چھپائے ہوں۔
خلائی مخلوقات کے حوالے سے باتیں نئی نہیں۔ بنی نوع انسان ہزاروں سال سے دنیا کے علاوہ دیگر جہانوں میں بھی مخلوقات ہونے اور اس کے ہماری دنیا میں آنے جانے پر یقین رکھتا رہا ہے۔
دور جدید میں بھی دنیا بھر سے اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوقات کے دیکھے جانے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائیٹ یو پی آئی کے مطابق گزشتہ سال امریکی فضائیہ کے ایک انٹیلی جنس افسر نے ایوان نمائندگان (کانگریس) میں سماعت کے دوران کہا تھا کہ امریکی حکومت خلائی مخلوق کی ہماری دنیا میں آمد و رفت سے متعلق تفصیلات کو ایک طویل عرصے سے چھپا رہی ہے۔ درحقیقت امریکا ان اڑن طشتریوں کی نقل کر کے ایسی ہی اڑنے والی چیزیں تخلیق کرنا چاہتی ہیں۔
اس حوالے سے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے آن ڈومین ریزولوشن آفس (ARRO) نے ایک صدی کے دوران زمین پر خلائی مخلوق دیکھے جانے سے متعلق دعوؤں کو پرکھنے کے بعد تحقیقاتی رپورٹ تیار کی ہے۔
آرو (ARRO) نے 1645 سے اڑن طشتریاں (UFOs) دیکھنے جانے سے متعلق کی گئی تمام تر تفتیشی رپورٹوں کی چھان بین کے بعد جاری کی ہے۔
یہ رپورٹ رواں ہفتے ہی امریکی ایوان نمائندگان (کانگریس) کو پیش کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کئی افراد خلائی مخلوق دیکھنے جانے کے دعوے نہایت دیانت داری سے کرتے ہیں مگر ان کا مشاہدہ ممکنہ طور پر ان کے ماضی کے تجربات یا قابل اعتبار لوگوں کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خفیہ رکھی گئی معلومات اور منظر عام پر لائی گئی دستاویزات پر انتہائی غور سے تفتیش کرنے کے بعد ثابت ہوتا ہے کہ اب تک دیکھی گئیں چیزیں یا غیر مرئی مظاہر عام اور معمولی نوعیت کے تھے اور انہیں غلط شناخت کر کے ایسے نتائج اخذ کیے گئے۔
تفتیشی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ماہرین کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ حکومت خلائی مخلوق کی حقیقت سے آگاہ اور اسے چھپا رہی ہے۔











