وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو بڑے چیلنج درپیش ہیں۔ معاشی استحکام لانے کے لئے ہر شعبے میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔ آگے چل کر بہت کڑوے فیصلے کرنا ہوں گے۔ ملک کو آئی ایم ایف کے ایک اور پروگرام کی ضرورت ہے، جس کا دورانیہ تین سال تک ہو سکتا ہے۔
خصوصی سرمایہ کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور سیاسی قیادت موجود ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملکی کے لیے ہم سب اکٹھے ہیں ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہو چکا ہے اور کچھ دنوں تک آئی ایم ایف سے قسط مل جائے گی۔ ساڑھے 1300 ارب روپے مل جائیں تو ہم اس کشکول کو توڑ سکتے ہیں
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے محصولات کا حجم 90 کھرب ہےجسے 140 کھرب تک ہونا چاہیے تھا۔ بجلی اور گیس کا گردشی قرضہ 5 ہزار ارب روپے جب کہ پی آئی اے کا قرض 825 ارب روپے ہے۔











