بھارت کے تیار کردہ روایتی مسالحوں میں خطرناک کیمیائی ماڈوں کی موجودگی کے انکشاف کے بعد ہانگ کانگ اور سنگا پور میں اس کی فروخت روک دی گئی ہے۔
وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ اور سنگاپور کے متعلقہ حکام نے بھارتی کمپنیوں ایم ڈی ایچ اور ایوریسٹ کے تمام مصالحوں کی فروخت پر تاحکم ثانی پابندی لگادی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مصالحوں کی ان مصنوعات میں کیڑے مارنے کی دوآں میں استعمال ہونے والے کیامائی مادے ‘ایتھلین آکسائڈ’ کی مقدار خطرنناک حد تک زیادہ پائی گئی ہے۔ اس کیمیکل کا زیادہ مدت تک مسلسل استعمال کئی اقسام کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔
پابندی کے بعد بھارت میں مصالحوں کی برآمدات کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے اسپائسز بورڈ آف انڈیا نے دونوں کمپنیوں سے وضاحت طلب کرلی ہے۔
دوسری جانب ایم ڈی ایچ اور ایورسٹ کمپنی نے کسی بھی قسم کا موقف دینے سے انکار کردیا ہے۔
بھارت دنیا میں مصالحوں کی برآمد سے اربوں ڈالر سالانہ زرمبادلہ حاصل کرتا ہے۔ بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 23-2022 کے دوران چار ارب ڈالر کے مصالحے برآمد کئے تھے۔ ایم ڈی ایچ اور ایوریسٹ بھارت کی مصالحہ مارکیٹ کے سب سے بڑے نام ہیں۔











