غزہ می فلسطینیوں کے آخری بچی ہوئی آبادی رفح پر بھی گزشتہ کئی دنوں سے اسرائیلی بمباری جاری ہے۔ گزشتہ روز علاقے میں اسرائیلی ٹینک کے داخلے کے ساتھ ہی ڈرون سے نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے عمل میں بھی تیزی آگئی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق رفح میں ایمبولینس اور ایمرجنسی سروسز کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیثم الحمس نے کہا کہ اسرائیلی کواڈ کاپٹر (مسلح ڈرونز ) رفح شہر کے ان رہائشیوں پر حملہ کر رہے ہیں جو اسرائیل کی بمباری کے باوجود وہاں موجود ہیں۔
ہیثم الحمس نے کہا کہ کواڈ کاپٹر محفوظ علاقوں میں بھی بے گھر لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں – ایمرجنسی ٹیموں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس لئے ایمبولینسوں کو ان علاقوں تک پہنچنے میں دشواری بہت زیادہ ہے
انسانی حقوق کی تنظیموں نے رواں برس 3 ماہ قبل ہی کہا تھا کہ تقریباً ایک میٹر قطر لمبے کواڈ کاپٹر پہلے اسرائیل انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کئے جاتے تھے ۔ اب اسرائیلی فورسز فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے لئے مشین گنوں اور میزائلوں سے لیس کواڈ کاپٹرز استعمال کر رہی ہیں۔
دوسری جانب فلسطین کے لیے عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ریک پیپرکورن نے کہا کہ کئی کے اوائل سے مصر کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ بند ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جو فلسطینی اس ہفتے کے شروع میں اپنے خیمہ کیمپ پر اسرائیلی حملے کے دوران جھلس گئے تھے وہ طبی امداد اور ادویات تک رسائی سے محروم ہیں۔











