غزہ میں گزشتہ 14 ماہ سے اسرائیلی بربریت ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور اس سے زیادہ شرمناک بات عالمی برادری خصوصاً امت مسلمہ کی بے حسی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق 2 ستمبر کی صبح شائمہ الدقی اپنی دو بیٹیوں-حنان اور 22 ماہ کی مسک-کو پولیو ویکسین لگوانے کے لیے جلدی اٹھ گئیں ۔
اگلے دن اس خاندان نے ابھی دوپہر کا کھانا کھایا ہی تھا کہ ان کے گھر پر اسرائیل نے بم برسا دیئے۔ اس حملے میں ان کی ماں شائمہ الدقی شہید جب کہ ان کے والد کو شدید زخمی ہوگئے۔
حنان نے اپنی دونوں ٹانگیں کھو دیں اور اس کی آنتوں کا کچھ حصہ نکالنے کے لیے اسے سرجری کروانی پڑی۔ 22 ماہ کی مسک کا بھی بایاں پاؤں کاٹنا پڑا ۔ یہ دونوں بچے تب سے اسپتال میں ہیں جب سے انہیں وہاں لایا گیا تھا
تین سالہ حنان الدقی اپنے دن اپنی چھوٹی بہن مسک کے ساتھ گزارتی ہے ، کبھی کبھار سوالات پوچھتی ہے۔
“ماں کہاں ہے ؟”
“میری ٹانگیں کہاں چلی گئیں ؟”
حنان اور مسک کی پھوپھی 28 سالہ شفاء الدقی تب سے ان کے ساتھ ہیں، دونوں بچیاں خوف زدہ اور گھبراہٹ کا شکار ہیں اور مسلسل اپنی پھوپھی سے لپٹی رہتی ہیں لیکن وہ اب بھی ان بچیوں کے سوالات کا جواب دینا نہیں جانتیں۔
شفاء الدقی پوچھتی ہے بچوں کو پولیو سے تحفظ ملتا ہے لیکن پھر اسرائیلی فضائی حملہ ان کی ٹانگیں لے لیتا ہے ؟ اس کا کیا مطلب ہے ؟ “
شیفا بچیوں تسلی دینے کی کوشش کرتی ہے ، لیکن اکثر اس پر بھی یہ خوف سوار رہتا ہے کہ ان بچیوں کا مستقبل میں کیا ہوگا۔ وہ بڑی ہوں گی اور دیکھیں گی کہ وہ اپنی عمر کے دوسرے بچوں سے کتنی مختلف ہیں ؟ تو کیسا محسوس کریں گے ۔
بچیوں کی پھوپھی کا کہنا ہے کہ وہ حنان کی شکل کو کبھی نہیں بھولے گی جب وہ اسی کی ہم عمر اپنی بیٹی حالا کو ان سے ملنے لے کر آئی تھی ۔حنان حالا کی ٹانگوں کو گھورتی اور پھر الجھن میں اس کی اپنی کٹی ہوئی ٹانگوں کو دیکھتی تھی۔ اس حادثے سے پہلے دونوں مل کر خوب کھیل کود کرتے تھے۔
پر نم سرخ آنکھوں کے ساتھ شفاء کہتی ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی ماں کی جگہ نہیں لے سکتا اور نہ لے سکے گا۔
اسپتال کا عملہ اس قدر تناؤ کے ماحول میں کام کررہا ہے کہ ان کے پاس لڑکیوں کو نفسیاتی مدد فراہم کرنے کا وقت اور وسائل ہی نہیں۔











