اہم ترین

شام میں بشار الاسد اور عبوری حکومتی فورسز میں جھڑپیں، سیکڑوں افراد ہلاک

شام میں سابق صدر بشار الاسد کے حامیوں اور عنوری حکومت کی فورسز کے درعمیان جھڑپیں جاری ہیں اور اس میں شدت آتی جارہی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی اور شام کی صورت حال کو مانیٹر کرنے والے ادارے سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شام کے ساحلی علاقوں میں سابق صدر بشار الاسد کے حامیوں اور عبوری حکومت کے فوجی دستوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

عبوری حکومت کے فوجیوں کو مسلسل کمک مل رہی ہے۔ اسی بل بوتے پر فورسز نے لطاکیہ، بنیاس، طرطوس اور جبلہ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔ تاہم مضافات میں علوی (بشار الاسد کے قبیلے)گروپوں کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔

الجزیرہ کے مطابق خمیمیم میں واقع روسی ایئربیس میں پناہ لینے والے درجنوں افراد کی قسمت کا علم نہیں ، لیکن یہ بات تیزی سے واضح ہوتی جارہی ہے کہ لڑائی سے بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔سیکڑوں لوگ مارے گئے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں۔

حکومت نے کہا کہ وہ سڑکیں بند کر رہی ہے اور آبادی کی حفاظت کے لیے مزید سکیورٹی فورسز بھیج رہی ہے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گیئر پیڈرسن کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقوں میں جھڑپوں اور شہریوں کی ہلاکتوں کی خبریں خاصی پریشان کن ہیں۔

گیئر پیڈرسن کا کہنا کہنا تھا کہ ہم ابھی بھی درست حقائق کا تعین کر رہے ہیں، اس وقت تمام فریقین کی جانب سے تحمل اور بین الاقوامی قانون کے مطابق شہریوں کا تحفظ سب سے ضروری ہے۔

پاکستان