کراچی کے ایک فلیٹ میں مردہ پائی جانے والے اداکارہ حمیرا اصغر کو لاہور کے ماڈل ٹاؤن قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
حمیرا اصغر کی میت کو جمعرات کی رات کراچی میں چھیپا فاؤنڈیشن کے مردہ خانے سے ان کے رشتہ داروں کے حوالے کیا گیا تھا۔ بھائی نوید اصغر اور دوسرے رشتے دار میت کو ایمبولنس میں ڈال کر بذریعہ سڑک لاہور روانہ ہوئے تھے۔
جمعے کو میت جمعے کو لاہور پہنچائی گئی، جہاں اسے شام انہیں ماڈل ٹاؤن قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
حمیرا کے والد اصغر علی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ میت وصول نہ کرنے کے حوالے سے تمام خبریں بےبنیاد ہیں، میڈیکل سے پہلے کوئی ڈیڈ باڈی کیسے لے سکتا تھا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ پر ابھی کچھ نہیں کہنا چاہتا، بیٹی کے ساتھ جو ہوا اس کا حساب اللہ لے گا۔
حمیرا اصغر کے چچا محمد علی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’وہ 2017 میں گھر والوں کی اجازت سے گھر سے گئی تھیں۔ خاندان نے ان سے اظہار لاتعلقی نہیں کیا تھا نہ ہی آج تک لڑائی جھگڑا نہیں ہوا۔ان کے اپنے گھر والوں سے بہت اچھے تعلقات تھے ۔
محمد علی نے مزید کہا کہ حمیرا سے صرف موبائل پر رابطہ ہوتا تھا، وہ ہر دو سے چھ ماہ بعد آتی تھیں اور غربا میں کپڑے اور دیگر اشیا تقسیم کرتی تھیں۔ہمارا اس سے رابطہ اس لیے نہیں ہوا کیونکہ ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کراچی میں کہاں رہتی ہیں۔
حمیرا کی باقیات کراچی کے علاقے اتحاد کمرشل میں ایک فلیٹ سے اس وقت ملیں جب ایک عدالتی اہلکار منگل کو مالک مکان کی شکایت پر مکان خالی کروانے کے لیے پہنچا۔
پوسٹمارٹم رپورٹ میں حمیرا کی موت کا تخمینہ آٹھ سے 10ماہ قبل لگایا گیا ہے، لاش تحلیل ہوچکی تھی۔ جسم کے بعض حصوں پر گوشت ختم ہوچکا تھا۔ ہڈیاں بھربھری ہوگئی تھیں اور جلد حنوط حالت میں تھی۔











