موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کی عالمی تنظیم گروپ اسپیشل موبائل ایسوسی ایشن (جی ایس ایم اے )کےمطابق پاکستان فائیوجی، اے آئی اور آئی او ٹی کےشعبوں میں علاقائی سطح پر دیگر ملکوں کی قیادت کرسکتا ہے۔
جی ایس ایم اے نے پاکستان میں موبائل اور انٹرنیٹ متعلق رپورٹ جاری کردی
اسلام آباد میں دوسری ڈیجیٹل نیشن سمٹ کے دوران جی ایس ایم اے نے پاکستان میں موبائل اور انٹرنیٹ متعلق رپورٹ جاری کردی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 68 فیصد کے پاس اسمارٹ فون ہیں لیکن ان میں سے صرف 29 فیصد ہی موبائل انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں موبائل سیکٹر پر 33 فیصد ٹیکس عائد ہے جو کہ خطے کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔اسپیکٹرم قیمتیں بہت زیادہ اور کنیکٹیویٹی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
جی ایس ایم اے نے بتایا کہ 40 سافٹ ویئر پارکس، اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور 17 ٹیلی کام منصوبوں پر کام جاری ہے ۔ ملک میں 10 ملین نئے براڈبینڈ صارفین اور انٹرنیٹ استعمال میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کو فوری مالی اور اسپیکٹرم اصلاحات کی ضرورت ہے، جس کی مدد سے پاکستان 5 جی ، اے آئی اور آئی او ٹی میں علاقائی لیڈر بن سکتا ہے۔











