کمپیوٹر اپنے آنے کے بعد سے مسلسل اپ گریڈ ہوتا رہا ہے، چاہے مانیٹر کا سلم ہونا، ماؤس اور کی بورڈ کا وائرلیس ہونا ہو یا سی پی یو کا چھوٹا ہونا۔ کافی تبدیلیاں ہوئی ہیں اور اب اے آئی کے آنے کے بعد کمپیوٹر پہلے سے کافی مختلف ہونے والا ہے۔ اگر آپ سے یہ کہا جائے کہ آہستہ آہستہ ماؤس اور کی بورڈ کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ بے شک ابھی یہ تصور لگتا ہے، لیکن یہ حقیقت بننے والا ہے۔
حال ہی میں مائیکرو سافٹ نےونڈوز 2030 وژن نام کی ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے مستقبل میں کمپیوٹر کا کام کرنے کا طریقہ اور صارفین کا اسے ان پٹ دینے کا طریقہ بالکل بدل جائے گا۔
مائیکروسافٹ کے”ونڈوز 2030 وژن” ویڈیو میں اگلے 5 سال میں ونڈوز آپریٹنگ سسٹم میں ہونے والی بڑے تبدیلیوں کو دکھایا گیا ہے۔ جس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو شامل کرنے پر خاص توجہ دی گئی ہے۔
مائیکروسافٹ کے انٹرپرائزز اور سیکیورٹی کے کارپوریٹ وائس پریزیڈنٹ ڈیوڈ ویسٹن نے ویڈیو میں اشارہ دیا کہ مستقبل میں آنے والا ونڈوز صارفین سے زیادہ جڑ جائے گا اور سننے، بولنے، دیکھنے اور سمجھنے کا تجربہ بالکل بدل دے گا۔صارفین کے لیے کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ایجنٹک اے آئی ایک نیا ڈیسک ٹاپ تجربہ فراہم کرے گا۔
ڈیوڈ ویسٹن نے کہا کہ مجھے پوری طرح یقین ہے کہ ونڈوز اور دیگر مائیکروسافٹ آپریٹنگ سسٹمز کے مستقبل میں آنے والے ورژنز ملٹی ماڈل طریقے سے تعامل کریں گے۔ کمپیوٹر وہی دیکھے گا جو ہم دیکھتے ہیں، وہی سنے گا جو ہم سنتے ہیں اور ہم اس سے بات کر سکیں گے اور زیادہ بہتر کام کرنے کے لیے کہہ سکیں گے۔ اس کے بعد ماؤس اور کی بورڈ جیسے روایتی ان پٹ کے طریقے عجیب لگیں گے۔
ڈیوڈ ویسٹن نے ایک ایسے مستقبل کا تجویز دی ہے جہاں اے آئی آپریٹنگ سسٹم میں شامل ہو رہا ہے، جس سے صارفین نیچرل لینگویج اور کئی ان پٹ موڈ کے ذریعے بات چیت کر سکتے ہیں، جس میں اے آئی ورک فلو اور ٹاسک کو منظم کرتا ہے۔ اس کے آنے کے بعد صارفین اگر کمپیوٹر سے کہیں گے کہ ای میل کھولو تو ای میل کھل جائے گا۔ کسی فائل کو ایک فولڈر سے دوسرے فولڈر میں شفٹ کرنے کے لیے صرف انگلیوں کے اشارے سے کام ہو جائے گا۔











