دنیا کی صف اول کی ٹیک کمپنی مائیکرو سافٹ 2025 میں اب تک 15 ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 2 ہزار عملے کو ‘انڈر پرفارمرز’ کہہ کر وہاں سے نکل جانے کو کہا گیا ہے۔ اس طرح اسے مائیکرو سافٹ میں 2014 کے بعد سب سے بڑی برطرفیوں کا سال کہا جارہا ہے۔
رواں برس مائیکرو سافٹ نے کئی پراجیکٹس اور شعبے بند کرنے کے ساتھ ساتھ درجنوں عہدے بھی ختم کئے گئے۔ اس کے علاوہ کمپنی نے کاکردگی کی بنیاد پر بھی چھانٹیاں شروع کردی ہیں۔
صورت حال یہ ہے کہ 2025 میں اب تک مجموعی طور پر 15 ہزار ملازمین کو برطرف اور 2 ہزار کو خود ہی نکل جانے کا کہہ چکی ہے۔
ملازمین کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیہ نڈیلا نے لکھا کہ جب بل گیٹس نے مائیکروسافٹ کی بنیاد رکھی، تو انہوں نے اسے صرف ایک سافٹ ویئر کمپنی نہیں بلکہ ایک فیکٹری کے طور پر تصور کیا تھا جو کسی ایک پروڈکٹ یا زمرے تک محدود نہ ہو۔
ستیہ نڈیلا کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں کمپنی کے لیے صرف ایک سافٹ ویئر فیکٹری کے طور پر شناخت برقرار کافی نہیں ہے۔ ہمیں اس شبیہ سے آگے بڑھتے ہوئے ایک ‘انٹیلی جنس انجن’ بنانا ہوگا، جو ہر ایک کے لئے مصنوعی ذہانت کو آسان بناسکے۔











