اہم ترین

خبردار! سوڈا اور مصنوعی مٹھاس فالج کا خطرہ 3 گنا بڑھا دیتی ہیں: امریکی تحقیق

امریکی تحقیق کے مطابق روزانہ ڈائیٹ سوڈا یا مصنوعی میٹھا کرنے والے مشروبات پینے سے 45 سال اور اس سے اوپر کے لوگوں میں فالج اور الزائمر کا خطرہ تقریباً 3 گنا بڑھ سکتا ہے۔

امیریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے اسٹروک جرنل میں سوڈا کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی ہے.

اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ روزانہ ایک یا زیادہ ڈائیٹ سوڈا پینے والے لوگوں کو اسٹروک اور الزائمر کا خطرہ تقریباً 3 گنا بڑھ جاتا ہے.

اس اسٹڈی میں 2 ہزار 800 سے زیادہ لوگوں کا 10 سال تک طرز زندگی اور میڈیکل ڈیٹا جانچا گیا کہ کون لوگ روزانہ ڈائیٹ سوڈا پیتے ہیں اور ان کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔

تحقیق میں عمر، جنس، غذا اور ورزش کو بھی مدنظر رکھا گیا. اس دوران اس بات کا خیال رکھا گیا کہ خطرہ صرف ڈائیٹ سوڈا پینے سے متعلق ہو اور درست معلومات حاصل کی جا سکیں.

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈائیٹ سوڈا میں شکر کم ہوتی ہے، لیکن اس میں مصنوعی مٹھاس ہمارے جسم اور دماغ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ یہ خون میں شوگر، آنت کے بیکٹیریا اور دماغ کی کیمیائی تعاملات کو بدل سکتی ہے۔

سوڈا میں موجود کیفین اور فاسفورک ایسڈ بلڈ پریشر بڑھاتے ہیں، جس سے ہمارے جسم میں موجود معدنیات بڑی مقدار میں باہر نکل سکتے ہیں۔ اس سے دماغ اور دل دونوں کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔

ایک کین سوڈا پینے کے 20 منٹ میں خون میں شوگر بڑھتی اور انسولین ریلیز ہوتی ہے۔ 40 منٹ میں کیفین اثر دکھاتا ہے، بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور دماغ میں خوشی کے ہارمون بڑھتے ہیں ۔ وہیں، 60 منٹ میں فاسفورک ایسڈ کیلشیم اور دیگر معدنیات کا گھیراؤ کرتا اور کیفین انہیں پیشاب کے ذریعے باہر نکال دیتا ہے۔

تاہم، یہاں توجہ دینے والی بات یہ ہے کہ اسٹڈی میں اس بات کا پتہ چلا ہے کہ ڈائیٹ سوڈا براہ راست اسٹروک یا الزائمر نہیں کراتا، لیکن خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے پانی اور قدرتی مشروبات زیادہ پئیں اور سوڈا کم پئیں۔

اس پورے مطالعے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس اور ڈائیٹ سوڈا کے طویل مدتی خطرناک اثرات ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صحت مند مشروبات کا انتخاب کریں جو آپ کے دل اور دماغ کے لیے نقصان دہ نہ ہوں۔

پاکستان