ہمارے کھانوں میں آلو اور ٹماٹر میں بہت پرانی رشتہ داری ہے۔ شائد ہی کوئی ایسا کھانا ہو جن میں ٹماٹر اور آلو استعمال نہ کئے جاتےہوں۔ لیکن جدید تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آلو اور ایک ہی ’خاندان‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔
سادہ، سستا اور ہر سبزی اور گوشت کے ساتھ گھل مل جانے والے آلو اور ٹماٹر کا شمار آجکی دنیا کی مقبول ترین سبزیوں میں ہوتا ہے۔
سائنسی جریدے ’سیل‘ کے مطابق ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ آلو اور ٹماٹر دراصل قدیم ساتھی اور ایک ہی ’خاندان‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آج سے کوئی 90 لاکھ سال قبل جنوبی امریکا میں جنگلی ٹماٹر اور آلو نما پودوں کے درمیان ملاپ کے نتیجے میں آلو وجود میں آیا ہے۔
سائنسدانوں کی جانب سے کی گئی حالیہ جینیاتی تجزیہ کے مطابق آلو کی ٹماٹر سے حیران کن مشابہت پائی گئی ہے۔ اس مشابہت کی گتھی کو سلجھانے کے لیے سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم نے چار سو پچاس کاشت شدہ اور چھپن جنگلی آلووں کا جینیاتی مواد اکٹھا کیا۔
چین کی شین زینگ ایگریکلچرل جینومکس انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر ژیانگ ژینگ نے اس تحقیق کی قیادت کی۔ انہوں نے اپنے جاری ابیان میں کہا کہ محققین نے پہلی مرتبہ حیاتیاتی تحقیق جنگلی آلووٓؤں کا مفصل تجزیہ کیا اور حیران کن نتائج سامنے آئے۔ جدید آلو جنوبی امریکا کے ملک چِلی میں پودوں کی تین اقسام سے مشابہت رکھتا ہے جو ایٹوبروسم کے نام سے جانا جاتا ہے۔
تحقیق سے یہ پتا چلا کہ جدید آلو جینیاتی وراثت میں دو قدیمی اقسام اپنے اندر رکھتے ہیں، جس میں سے تقریباﹰ ساٹھ فیصد حصہ ایٹوبروسم اور چالیس فیصد ٹماٹروں پر مشتمل ہے، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ٹماٹر اور آلو ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
چین کی شینزینگ ایگریکلچرل جینومکس انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر سانوینگ ہوانگ کی لیب اس نئے انکشاف پر مزید تحقیق کررہی ہے۔ان کی تحقیق یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ ٹماٹر کی جین استعمال کرکے ایک نئے قسم کا آلو پیدا کیا جاسکتا ہے۔
تحقیق کے شریک اور یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے پروفیسرمصنف لارین ریزبرگ نے اسے ارتقائی حیاتیات سے متعلق ایسا اہم انکشاف قرار دیا ہے جس سے سائنس دانوں کو پودوں کے قدیم تنوع سے متعلق مزید معلومات حاصل ہوں گی۔
لارین ریزبرگ کا کہنا تھا کہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ بے ترتیب جینیاتی تغیرات پودوں کی نئی اقسام کو جنم دینے میں معاون ثابت ہوتی ہے، لیکن اس کے تخلیقی کردار کو کم اہمیت دی جاتی رہی ہے۔











