وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ قرضوں کے لحاظ سے پاکستان کی پوزیشن عالمی پیمانے کے مطابق بہتر ہوئی ہے، ملک کا قرضوں کا رجحان روپے کے مجموعی اعداد و شمار کے مقابلے میں آج زیادہ پائیدار ہے۔
چند روز قبل ملک پر اندرونی اور قرضوں سےمتعلق اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار جاری ہوئےتھے۔ جس کے مطابق ایک سال کے دوران ملک پر سرکاری قرضوں کا حجم 689 کھرب 10 ارب روپے سے بڑھ کر 778 کھرب 90 ارب روپے ہو گیا ہے ۔ جوملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔
ملک میں اعداد وشمار کی بنیاد پر کی جانےوالی تنقید کے بعداب وفاقی وزارت خزانہ نے وضاحتی بیان جاری کیاہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس کی قرض منیجمنٹ حکمت عملی کا مرکز عوامی قرض سے جی ڈی پی کے تناسب کو ڈیبٹ لیمیٹیشن ایکٹ کے مطابق لانا ہے، جس کے تحت مؤثر قرض انتظام کے ذریعے وفاقی مالی خسارے اور قرض سے جی ڈی پی کے تناسب کو مناسب سطح پر لانا ہے۔
بیان میں مزید کہا کہ یہ حکمت عملی ’ ری فنانسنگ اور رول اوور کے خطرات کو کم سے کم کرنے اور سود کی بچت پیدا کرنے پر مشتمل ہے تاکہ پائیدار عوامی مالیات کو سہارا دیا جا سکے۔
وزارت خزانہ کا موقف ہے کہ عالمی سطح پر پائیداری کا مناسب پیمانہ قرض کا حجم نہیں بلکہ اس کا ملکی معیشت کے حجم سےموازنہ ہے۔اس پیمانے کے مطابق، پاکستان کی پوزیشن دراصل گزشتہ چند برسوں میں بہتر ہوئی ہے۔
بیان میں کہاگیا ہےکہ حکومت نے رول اوور اور ریفنانسنگ کے خطرات کو کم کیا اور ٹیکس دہندگان کو قابلِ ذکر سود کی بچت فراہم کی ، جس سے جی ڈی پی کے لحاظ سے قرض کا تناسب مالی سال 2022 میں 74 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2025 میں 70 فیصد ہو گیا۔
وزارت خزانہ کا مزید کہناہےکہ حکومت نے پاکستان کی قرض کی تاریخ میں پہلی بار’ کمرشل اور مرکزی بینکوں کے ذمے تقریباً 2600 ارب روپے قبل از وقت ادا کیے، اور سود کی مد میں سیکڑوں ارب روپے کی ادائیگی کی بچت ہوئی۔











