اہم ترین

موبائل فون کی بیٹری میں ایم اے ایچ کا کھیل؟ اکثر لوگوں کا اس کا علم کم ہی ہے

آج کے دور میں موبائل فون ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ کالنگ سے لے کر سوشل میڈیا، آن لائن خریداری اور گیمنگ تک سب کچھ فون پر ہی ہوتا ہے۔ ایسے میں سب سے بڑی چیز ہوتی ہے بیٹری بیک اپ ۔ جب بھی کوئی نیا فون خریدتے ہیں تو سب سے پہلے لوگ اس کی بیٹری کی صلاحیت دیکھتے ہیں۔ اکثر ہم سنتے ہیں کہ کسی فون میں 5000ایم اے ایچ بیٹری ہے یا کسی میں 6000ایم اے ایچ ۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آخر یہ ایم اے ایچ ہوتا کیا ہے؟

ایم اے ایچ ملی ایمپیئر آور کا مخفف ہے۔ یہ بیٹری کی صلاحیت کو ناپنے کی ایک اکائی ہے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو ایم اے ایچ بتاتا ہے کہ بیٹری کتنی دیر تک چارج ذخیرہ کرکے فون کو طاقت دے سکتی ہے۔ زیادہ ایم اے ایچ کا مطلب زیادہ بیک اپ۔ جبکہ کم ایم اے ایچ کا مطلب جلدی بیٹری ختم ہونا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر کسی فون میں 5000ایم اے ایچ کی بیٹری ہے تو وہ 3000ایم اے ایچ والے فون سے زیادہ دیر تک چلے گی، بشرطیکہ دونوں میں ایک جیسا پروسیسر اور ڈسپلے استعمال ہو۔

مان لیجیے آپ کے فون کی بیٹری 4000ایم اے ایچ ہے اور فون ہر گھنٹے 400 ملی ایمپئر کی پاور خرچ کرتا ہے۔ تو آپ کا فون قریب 10 گھنٹے تک چل سکتا ہے۔

حالانکہ اصل بیٹری بیک اپ کئی چیزوں پر منحصر ہوتا ہے جیسے اسکرین کا سائز اور روشنی، پروسیسر کی طاقت، انٹر نیٹ نیٹ ورک کا استعمال، پس منظر میں ایپس اور گیمنگ یا ویڈیو اسٹریمنگ۔ یعنی صرف ایم اے ایچ دیکھ کر ہی بیٹری بیک اپ کا اندازہ لگانا صحیح نہیں ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ 6000ایم اے ایچ بیٹری والا فون ہمیشہ 5000ایم اے ایچ سے زیادہ چلے۔ کبھی کبھی بڑا ڈسپلے، ہائی ریفریش ریٹ (120پرٹز یا 144ہرٹز)، طاقتور پروسیسر اور 5 جی نیٹ ورک زیادہ توانائی صرف کرتے ہیں۔ اس لیے بیٹری بیک اپ صرف ایم اے ایچ پر ہی نہیں بلکہ فون کی مجموعی پاور ایفیشنسی پر بھی منحصر ہوتا ہے۔

اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ ایم اے ایچ کا اثر چارجنگ اسپیڈ پر بھی پڑتا ہے۔ لیکن یہ پوری طرح صحیح نہیں ہے۔ چارجنگ اسپیڈ اصل میں چارجر کے واٹ پر منحصر ہوتی ہے۔ جیسے 67 یا 120 واٹ فاسٹ چارجنگ۔ پھر بھی بڑی بیٹری کو چارج ہونے میں چھوٹی بیٹری سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے

پاکستان