ایران نے اقوام متحدہ کی پرانی جوہری پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کی کوششوں کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے فرانس، جرمنی اور برطانیہ سے اپنے سفیروں کو فوری طور پر واپس بلا لیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے خبر رساں ایجنسی اسنا کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ان تینوں یورپی ممالک (ای 3 ) کے غیر ذمہ دارانہ فیصلے کے بعد برلن، پیرس اور لندن میں موجود ایرانی سفیروں کو مشاورت کے لیے تہران طلب کر لیا گیا ہے۔
ای تھری کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی کوششوں کی ناکامی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپی ممالک کا بنیادی مطالبہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی جانب سے نگرانی کی اجازت دینا تھا، جسے ایران نے مسترد کر دیا تھا۔
دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای اے اعلان کرچکی ہے کہ ایران ایٹمی اسلحہ بنانا نہیں چاہتا۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے اسنیپ بیک کا مسئلہ حل کرنے کے لئے تجاویز پیش کی ہیں اور یورپ والوں نے بھی بعض نظریات پیش کئے ہیں۔اگر انھوں نے اسنیپ بیک فعال کیا تو جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ ہمارے روابط معطل ہوجائيں گے ۔ یہ ایرانی پارلیمنٹ کا فیصلہ ہے۔











