غزہ میں امدادی سامان لےجانے والی بین الاقوامی بحری قافلے صمود فلوٹیلا میں شامل پاکستانی سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی قید سے رہا ہوکر اردن میں پاکستانی سفارت خانے پہنچ گئے ہیں۔
صمود فلوٹیلا نامی بحری قافلے میں 40 کے قریب چھوٹی بڑی کشتیاں شامل تھی جن پرغزہ کے لئے امدادی سامان اور 400 کے قریب سماجی کارکن سوار تھے۔
تاہم یکم اکتوبر کو اسرائیلی حکام نے ان کشتیوں کو روک کر اس میں سوار تمام افراد کو حراست میں لے لیا تھا ۔ ان میں سویڈن سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی نمایاں کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔
حراست میں لئے گئے افراد کو مختلف اوقات میں رہا کیا گیا۔ رہائی پانے والے170 کے قریب افراد اردن لائے گئے۔ جنہیں ان کے آبائی ملکوں کے سفارت خانوں کے حوالے کردیا گیا۔ ان میں پاکستان سے جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔
اس سلسلے مین وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایکس پر کہا کہ ان کو یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ مشتاق احمد خان صحت مند ہیں اور پرعزم دکھائی دے رہے ہیں۔ سفارت خانہ ان کی خواہش کے مطابق وطن واپسی کے لیے سہولت فراہم کرنے کو تیار ہے۔
سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے رہائی کے بعد ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے انکے اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں، پاؤں میں بیڑیاں اور آنکھوں پر پٹیاں باندھیں۔ہمیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ہمارے اوپر کتے چھوڑے گئے۔
مشتاق احمد نےکہا کہ ہم رہا ہو چکے ہیں اور فلسطین کی آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی۔











