اہم ترین

دنیا کا سب سے چھوٹا اور خطرناک ہتھیار، جس سے دشمن کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں

آج کی جنگیں ٹینکوں، توپوں اور بندوقوں تک محدود نہیں رہیں. ٹیکنالوجی اس قدر ترقی کرگئی ہے جسامت میں چھوٹے ہونے کے باوجود کچھ ہتھیار دشمن کے لئے انتہائی مہلک ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک بغیر پائلٹ طیارے اور ڈرونز بھی ہیں۔

رواں برس مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں بھی ڈرونز نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ بھارت نے جاسوسی اور حملوں کے لیے سیکڑوں ڈرونز بھیجے جس کے جواب میں پاکستان نے بھی مودی سرکار اور وہاں کی فوج کو ہار کا کرارا مزا چکھایا۔

مائیکرو ڈرونز اب جاسوسی سے لے کر درست حملوں تک کے کام کر رہے ہیں.جب یہ تنہا اڑتے ہیں تو بھی خطرناک ہیں لیکن اصل طاقت تب ظاہر ہوتی ہے جب سیکڑوں چھوٹے چھوٹے ڈرون غول کی صورت میں اپنے ہدف کی جانب بڑھتے ہیں۔ اس طرح وہ روایتی دفاعی نظام کو باآسانی ناکام بنادیتے ہیں۔

چھوٹے سائز کے یہ ڈرونز دشمن کے علاقوں میں سیکڑوں کلو میٹر اندر گھس کر ہدف کے قریب پہنچ کر خود کو تباہ کر دیتے ہیں، اسی بنیاد پر انہیں خودکُش ڈرونز کہا جاتا ہے۔

یہ بڑے بڑے جنگی طیاروں کے مقابلے میں انتہائی کم لاگت ہوتے ہیں اور شہری علاقوں میں غیر متوقع نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار بہت چھوٹے خودکش ڈرونز کم ملبہ پھیلائے اپنے ہدف کو ٹھیک اور ناقابل برداشت نقصان پہنچاسکتے ہیں۔

پاکستان