اہم ترین

ڈنمارک کی وزیراعظم کا بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کا اعلان

آسٹریلیا کے بعد ڈنمارک کی وزیراعظم میٹی فریڈریکسن نے بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کا اعلان کردیا۔

آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے 16 سال سےکم عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی لگائی تھی۔ جس کے بعد دنیا کے کئی ملکوں میں اس حوالے سے قانون سازی کی جارہی ہے۔ جن میں اب ڈنمارک بھی شامل ہورہا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ڈنمارک کی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران میٹی فریڈریکسن نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہمارے بچوں کا بچپن چُرا رہے ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا کو عفریت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کہ معاشرہ ایک عفریت کو آزاد کر چکا ہے۔ اس کی وجہ سے نوجوانوں میں بے چینی، ڈپریشن اور توجہ کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

میٹی فریڈریکسن نے کہا ماضی میں کبھی اتنے زیادہ بچے اور نوجوان بے چینی اور ڈپریشن کا شکار نہیں ہوئے تھے جتنے اب ہو رہے ہیں۔ہم بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگائیں گے۔ ٹیلی فون اور کمپیوٹر اسکرینوں سے ان کے سامنے ایسا مواد آتا ہے جو کسی بچے یا نوجوان کو نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ سب ان کی تعلیم اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔

ڈینش وزیر اعظم نےکہا کہ 2026 سے مجوزہ قانون کی مددسے بچوں کی سوشل میدیا پلیٹ فارمز تک رسائی روکی جائے گی۔ تاہم 13 سال کی عمر سے بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی والدین کی اجازت سے مشروط ہوگی۔

پاکستان