اہم ترین

پاکستانیوں کے لئےخوشخبری: برطانیہ کا 82 شعبوں کے ماہرین کے لیے ورک ویزا کا اعلان

برطانیہ میں مختلف شعبوں میں افرادی قوت کی کمی کے باعث حکومت نے نئی امیگریشن اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 82 درمیانی درجے کی ملازمتوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جن کے لیے غیرملکی ورکرز کو عارضی ورک ویزا دیا جائے گا۔ اس فہرست میں شامل بیشتر نوکریوں کے لیے کسی اعلیٰ ڈگری کی ضرورت نہیں، صرف متعلقہ مہارت ہونا کافی ہے۔

اس اعلان کے بعد پاکستان سمیت دیگر ایشیائی ورکرزکے لیے برطانیہ جانے کے مواقع بڑھ گئے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر کی حکومت نے یہ فیصلہ اس وقت کیا ہے جب ملک میں امیگریشن قوانین مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ میں فی الحال انجینئرنگ، لاجسٹکس، ٹیکنیکل، تعمیراتی اور فنی شعبوں میں افرادی قوت کی شدید کمی ہے۔ حکومت نے جن 82 ملازمتوں کی فہرست جاری کی ہے، ان میں پلمبر، پینٹر، بڑھئی، راج مستری، ویلڈر، الیکٹریشن، کار مکینک، ریفریجریشن و اے سی ٹیکنیشن، فیشن ڈیزائنر، لیب ٹیکنیشن، آئی ٹی سپورٹ اسٹاف، ڈیٹا اینالسٹ، فنانس کلرک، ہیومن ریسورس آفیسرز، اور انجینئرنگ ٹیکنیشنز وغیرہ شامل ہیں۔

اس فہرست کو برطانیہ کی مائیگریشن ایڈوائزری کمیٹی نے تیار کیا ہے، جو برطانوی حکومت کی شارٹ ٹرم لیبر شارٹیج لسٹ کا حصہ ہے۔

حکومت کے مطابق ان پیشوں کے لیے آنے والے ورکرز کو تین سے پانچ سال کے لیے ورک ویزا دیا جائے گا۔ تاہم انہیں مستقل رہائش کا درجہ نہیں دیا جائے گا جب تک پالیسی میں تبدیلی نہ کی جائے۔

ورک ویزا حاصل کرنے کے لیے امیدواروں کے لیے انگلش بولنے اور سمجھنے کی شرط لازمی رکھی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق، یہ اسکیم برطانیہ کی نئی انڈسٹریل اسٹریٹیجی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک میں کم ہوتی افرادی قوت کو پورا کرنا اور اقتصادی سرگرمیوں کو بحال کرنا ہے۔

پاکستان