اہم ترین

رمشا خان کا سوشل اینزائٹی کا شکار ہونے کا اعتراف

پاکستانی اداکارہ رمشا نے اپنی نجی زندگی اور شوبز انڈسٹری کے تجربات پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زیادہ تر اپنی ہی دنیا میں مگن رہتی ہیں، اور جب کام نہیں کر رہی ہوتیں تو اپنے کمرے میں وقت گزارنا پسند کرتی ہیں۔

بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں رمشا خان نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی دنیا میں مگن رہنا پسند کرتی ہیں اور جب کام نہیں کر رہی ہوتیں تو کمرے تک محدود رہتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ زیادہ کسی سے بات نہیں کرتیں اور اپنے دو دوستوں کے علاوہ کسی سے نہیں ملتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کام سے کام رکھتی ہیں اور آسانی سے کسی پر بھروسہ نہیں کرتیں، یہی وجہ ہے کہ ان کا انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کوئی دوست نہیں ہے۔

انہوں نے ایک اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلائی کہ سوشل اینزائٹی ایک حقیقت ہے جس کو لوگ بہت ہلکا لیتے ہیں۔ مجھے ہے اور مجھے زیادہ لوگوں میں بہت مشکل ہوتی ہے۔ وہ امید کرتی ہیں کہ اس وجہ سے لوگ انہیں مغرور نہ سمجھیں۔

اداکارہ نے پاکستانی ڈراما انڈسٹری میں مسائل پر کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں انڈسٹری میں اس زمانے میں بھی دہرا معیار ہے۔ ابھی تک سیٹ پر مرد اداکاروں کو چھوٹ دی جاتئ ہے۔ اگر کوئی اونچ نیچ ہو جاتی ہے تو اُن کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ لیکن جب خواتین فنکار کی بات آتی ہے تو ان کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ پاکستانی ڈراموں کی کہانی بھی اس دہرے معیار کا پول کھولتی ہے۔

ماہرہ خان کی گزشتہ فلم ’لوو گرو‘ میں اپنے مختصر کردار اور ڈانس کے حوالے سے عوام کی تنقید پر انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بحیثیت اداکار یہ ان کا کام ہے کہ وہ مختلف کردار نبھائیں۔ ہیروئن اگر بغیر آستین کے کپڑے پہن لے تو عوام اس کو تسلیم نہیں کرتے، لیکن اگر مرد کو شراب پیتے اور بے وفائی کرتے دکھایاجائے تو یہ ان کے لئے قابل وبول ہے۔

ڈرامہ ‘بریانی’ پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے رمشا نے اسے ہلکی پھلکی رومانوی کہانی قرار دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سکرین پر تشدد دکھایا جاتا ہے تو تنقید کیوں نہیں کی جاتی، لوگوں کو اس کہانی سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ اگر انہیں کوئی چیز نامناسب لگتی ہے تو وہ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔

پاکستان