اقوامِ متحدہ نے جمعے کو جاری ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ دنیا کے تقریباً 80 فیصد انتہائی غریب افراد یعنی تقریباً 90 کروڑ لوگ براہِ راست ماحولیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات جیسے خشک سالی، سیلاب، شدید گرمی اور آلودگی کا سامنا کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یواین ڈی پی ) کے قائم مقام سربراہ ہاؤ لیانگ شو نے کہا کہ کوئی بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ نہیں، لیکن سب سے زیادہ نقصان دنیا کے غریب ترین لوگ اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نومبر میں برازیل میں ہونے والا کوپ 30 کلائمیٹ اجلاس عالمی رہنماؤں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ ماحولیاتی اقدامات کو غربت کے خاتمے کی کارروائی کے طور پر دیکھیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کے 1.1 ارب لوگ یعنی تقریباً 18 فیصد آبادی شدید غربت میں زندگی گزار رہی ہے ۔ ان میں سے نصف بچے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غربت اور موسمیاتی خطرات آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقے سب سہارا افریقا اور جنوبی ایشیا ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 60 کروڑ لوگ شدید گرمی، 57 کروڑافراد آلودگی، 46 کروڑ سیلابوں اور 20 کروڑ نفوس خشک سالی کا سامنا کررہے ہیں،
ان میں سے ساڑھے 6 کروڑ لوگ ایسے ہیں جو بیک وقت 2 یا اس سے زیادہ خطرات کا سامنا کرتے ہیں، جب کہ ایک کروڑ سے زائد لوگ چاروں خطرات سے بیک وقت گزر چکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہے، خاص طور پر جنوبی ایشیا میں، جہاں غربت میں کمی کے باوجود 99 فیصد غریب آبادی کسی نہ کسی موسمیاتی خطرے سے دوچار ہے۔
اقوامِ متحدہ نے زور دیا ہے کہ دنیا کو اب صرف خطرات تسلیم کرنے کے بجائے، انسانیت اور زمین دونوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔











