اہم ترین

مصنوعی ذہانت کا نقصان: میٹا نے اے آئی شعبے سے 600 ملازمین فارغ کر دیے

سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) شعبے سے 600 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اقدام کام کے عمل کو زیادہ تیز اور مؤثر بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ میٹا نے کچھ عرصہ قبل اسی شعبے میں درجنوں نئی تقرریاں کی تھیں، مگر اب تنظیمِ نو کے عمل میں یہی محکمہ کٹوتی کی زد میں آ گیا ہے۔ اس فیصلے نے متاثرہ ملازمین کو غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر کام کرنے والی ٹیمیں متاثر ہوں گی۔ تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بڑے منصوبوں کو متاثر کیے بغیر یہ تبدیلی لانا چاہتی ہے اور متاثرہ ملازمین کو دیگر محکموں میں جگہ دینے کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔

میٹا کے چیف اے آئی آفیسر الیگزینڈر وانگ نے کہا کہ کمپنی کا ہدف ہے کہ ٹیم کو مزید جامع اور نتائج پر مبنی بنایا جائے تاکہ فیصلے کم میٹنگز کے ساتھ تیزی سے کیے جا سکیں۔

دوسری جانب، نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایمیزون بھی اپنے گوداموں میں روبوٹس کی تعیناتی کے منصوبے پر عمل کر رہی ہے، جس کے باعث ہزاروں ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

۔تجزیہ کاروں کے مطابق، مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کا بڑھتا ہوا استعمال مستقبل قریب میں عالمی سطح پر روزگار کے منظرنامے کو تبدیل کر سکتا ہے — اور یہ تبدیلی ہر کسی کے لیے آسان نہیں ہوگی

پاکستان