اہم ترین

پانچ ماہ میں 40 لاکھ عمرہ ویزے: پاکستانی زائرین سب سے زیادہ

سعودی عرب میں جاری موجودہ عمرہ سیزن اس بار غیر معمولی حد تک مصروف اور بابرکت ثابت ہو رہا ہے۔سعودی وزارتِ حج و عمرہ کے مطابق، سیزن کے آغاز سے اب تک 40 لاکھ سے زائد عمرہ ویزے جاری کیے جا چکے ہیں جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی زائرین اس فہرست میں سب سے آگے ہیں، جبکہ انڈونیشیا دوسرے اور ہندوستان تیسرے نمبر پر ہے۔ چوتھی پوزیشن عراق اور پانچویں مصر کے حصے میں آئی ہے۔

عمرہ سیزن کا جلد آغاز اور زائرین کی غیر معمولی آمد

عمرہ سیزن کا آغاز رواں برس جون 2025 میں، حج کے فوراً بعد کر دیا گیا تھا۔ صرف پانچ ماہ میں دنیا بھر سے لاکھوں افراد کی آمد نے سعودی حکام کے لیے ریکارڈ مصروفیات پیدا کر دی ہیں۔

وزارت کے مطابق، زائرین کی آمد میں یہ اضافہ سعودی حکومت کے جدید انتظامی اور ڈیجیٹل اقدامات کا نتیجہ ہے۔

وزارتِ حج و عمرہ کے مطابق، عمرہ ویزے کے حصول کے لیے اب دنیا کے بیشتر ممالک کے زائرین نسک پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست دیتے ہیں۔

یہ خودکار نظام زائرین کو بغیر کسی ایجنٹ یا ثالث کے ویزا حاصل کرنے، ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور رہائش سمیت اپنی مرضی کا پیکیج منتخب کرنے کی سہولت دیتا ہے۔

اسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی بدولت یورپی ممالک سے آنے والے زائرین کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق زیادہ تر زائرین عمرہ کے لیے جدہ یا براہِ راست مدینہ منورہ پہنچتے ہیں، جہاں سے وہ ہائی اسپیڈ ٹرین یا بین الریاستی بس سروس کے ذریعے مکہ مکرمہ کا سفر کرتے ہیں۔

ان سفری سہولیات کو مسلسل بہتر کیا جا رہا ہے تاکہ زائرین کا تجربہ زیادہ آرام دہ، تیز اور محفوظ بنایا جا سکے۔

وزارتِ حج و عمرہ نے بتایا کہ زائرین کی سہولت کے لیے ڈیجیٹل سروسز کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔

متعدد زبانوں میں رہنمائی مواد، ضوابط اور معلوماتی ہدایات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ مختلف ممالک سے آنے والے افراد کو بہتر انداز میں رہنمائی مل سکے۔

یہ تمام اقدامات سعودی ویژن 2030 کا حصہ ہیں، جس کے تحت ہر سال عمرہ و زیارت کے لیے آنے والے زائرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ کرنا اور ان کے تجربے کو عالمی معیار کے مطابق بنانا مقصود ہے۔

فی الحال 30 سے زائد سرکاری و نجی ادارے ایک مربوط نظام کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں تاکہ زائرین کو عبادت، رہائش اور نقل و حمل میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

سعودی حکام کے مطابق، آئندہ مہینوں خصوصاً ربیع الثانی اور جمادی الاولیٰ کے دوران زائرین کی آمد میں مزید اضافہ متوقع ہے، کیونکہ یہ وہ وقت ہے جب بیشتر مسلم ممالک سے لوگ عمرہ کی ادائیگی کے لیے بڑی تعداد میں سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔

مختصر یہ کہ، سعودی عرب کا موجودہ عمرہ سیزن نہ صرف روحانیت کے اعتبار سے بھرپور ہے بلکہ انتظامی لحاظ سے بھی ایک نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔

پاکستان