اہم ترین

مشتری نہ ہوتا تو زمین بھی نہ ہوتی! سائنسدانوں کی نئی تحقیق

مشتری نظامِ شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہے۔ ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق، اگر مشتری موجود نہ ہوتا تو زمین کبھی وجود میں ہی نہ آتی ۔۔ اور اگر آتی بھی تو لاکھوں سال پہلے ہپ سورج میں ضم ہو چکی ہوتی۔

ہیوسٹن کی رائس یونیورسٹی کے ماہرین نے اپنی تحقیق میں کمپیوٹر ماڈلنگ کے ذریعے ابتدائی نظامِ شمسی میں گیس، دھول، اور ٹھوس ذرات کے بہاؤ کا تجزیہ کیا۔

تحقیق کی مدد سے ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمارے نظامِ شمسی میں سب سے بڑے سیارے مشتری نے ابتدائی مراحل میں ایسا ڈھانچہ بنایا کہ زمین جیسا سیارہ وجود میں آ سکا۔

مطالعے میں کہا گیا ہے مشتری نے اپنے ابتدائی ارتقاء کے دوران گیس اور دھول کے گرد دائرے اور خلا بنا دیے، جنہوں نے چھوٹے ذرات کو سورج کی طرف سرکنے سے روکا۔ اس سے وہ ذرات سورج میں ضم ہونے کے بجائے جمع ہو کر بعد میں سیاروں کی ساخت کے لیے استعمال ہوئے۔

مشتری کی کشش ثقل نے اندرونی نظامِ شمسی میں سیاروں کے مدار کو مستحکم کیا، اور زمین، زہرہ اور مریخ جیسے چٹانی سیاروں کے بننے کے لیے موزوں ماحول فراہم کیا۔

سائسندانوں کا کہنا ہے کہ سیاروں کی تشکیل محض وقت کی بات نہیں بلکہ بڑے سیاروں کے ارتقاء کے مراحل اور ان کے کشش ثقل کے اثرات پر بھی منحصر ہے۔

پاکستان