اہم ترین

جنوبی کوریا میں لوگوں کی بڑہتی عمر اور تنہائی نے “موت” کو منافع بخش کاروبار بنا دیا

جنوبی کوریا میں لوگوں کی درازی عمر اور گرتی شرح پیدائش نے سماجی ساخت کو بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں اب موت کا کاروبار ایک ابھرتی ہوئی صنعت بن چکا ہے۔

جنوبی بندرگاہی شہر بوسان کی ایک یونیورسٹی کے کلاس روم میں قطار در قطار تابوت رکھے ہیں، جہاں طلباء کو مستقبل کے فیو نرل ڈائریکٹرز (تجہیز و تدفین کے منتظمین) کے طور پر تربیت دی جا رہی ہے۔

جنوبی کوریا کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے۔ جہاں صحت کی سہولیات کے باعث لوگوں کی اوسط عمر بہر بڑھ چکی ہے جب کہ شرح پیدائش انتہائی کم ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ جنوبی کوریا میں اب 42 فیصد خاندان اکیلے رہنے والے افراد پر مشتمل ہیں۔

اس رجحان کے باعث کئی گھروں سے لاشیں کئی کئی دن بعد ملتی ہیں۔ ایسی صورت حال میں ایک نیا پیشہ بھی وجود میں آیا ہے۔ جس سے منسلک لوگ ان جگہوں کو صاف کرتے ہیں جہاں سے بوسیدہ لاشیں ملتی ہیں۔ تاکہ ان گھروں کو دوبارہ قابل استعمال بنایا جائے۔

اس کے علاوہ جنوبی کوریا دنیا کے ان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے جہاں لوگ سب سے زیادہ خودکشی کرتے ہیں۔ اور ان میں بہت سے لوگ اکیلے پن کا شکار ہوتے ہیں۔

لوگوں کی بڑی تعداد مردوں کی تجہیز و تدفین کے پیشے سے بھی منسلک ہورہی ہے۔ اس شعبے میں 20 سال کی عمر کے نوجوانوں کی دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

پاکستان