اہم ترین

ایپل واچ اب زندگی بچانے والی مشین بنے گی

دنیا کی بیشتر ٹیک کمپنیاں مصنوعی ذہانت اے آئی کو محض کاسمیٹک فیچر کے طور پر پیش کر رہی ہیں، لیکن ایپل اسے صحت کے انقلاب میں بدلنے کی تیاری کر رہا ہے۔ کمپنی کے سی ای او ٹم کک نے اعلان کیا ہے کہ اب ایپل واچ تقریباً 10 لاکھ صارفین کو ہائی بلڈ پریشر جیسی خطرناک بیماری کی ابتدائی علامات کے بارے میں آگاہ کرے گی۔

یہ نئی خصوصیت کمپنی کی ارننگ کال کے دوران متعارف کرائی گئی۔ ٹم کک کے مطابق یہ فیچر ایپل واچ کے نئے ماڈلز — سیریز 9، سیریز 11، واچ الٹرا 2 اور الٹرا 3 میں دستیاب ہوگا۔


ہائی بلڈ پریشر کو ’سائیلنٹ کنڈیشن‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ بیماری بغیر واضح علامات کے طویل عرصے تک جسم کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ایپل واچ کا نیا AI سسٹم اپنے آپٹیکل ہارٹ سینسر سے ڈیٹا لے کر مشین لرننگ الگورتھم کے ذریعے خون کی نالیوں کے ردعمل کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ فیچر 30 دنوں تک صارف کے دل کے ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے اور اگر مسلسل ہائی بلڈ پریشر کی علامات ظاہر ہوں تو فوری الرٹ بھیج دیتا ہے۔

ٹم کک نے کہا کہ ہائپر ٹینشن دل کے دورے اور فالج کی بڑی وجہ ہے اور دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ لوگ اس سے متاثر ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایپل واچ کے ذریعے 10 لاکھ سے زائد صارفین کو اس جان لیوا حالت کے بارے میں بروقت وارننگ دی جا سکے گی۔ ایپل واچ کے پورے صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی اے آئی اور مشین لرننگ بن چکی ہیں، جس سے فال ڈٹیکشن، کریش ڈٹیکشن اور دل کی دھڑکن کی نگرانی جیسی خصوصیات ممکن ہوئی ہیں۔


ایپل نے اپنی نئی واچ سیریز 1 میں ’سلیپ اسکور‘ فیچر بھی شامل کیا ہے، جو صارفین کو نیند کے معیار کو سمجھنے اور بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔

ٹم کک نے بتایا کہ ایپل واچ سمیت ویئربل، ہوم اور ایسسریز کے حصے نے اس سہ ماہی میں 9 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی ہے۔ انہوں نے ایپل واچ الٹرا 3 کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس میں سب سے بڑا ڈسپلے اور سب سے طویل بیٹری لائف ہے، جبکہ سیریز 11 میں صحت کی جدید ترین خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔

پاکستان