برطانوی امدادی ادارے آکسفیم کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے دس امیر ترین لوگوں کی دولت گزشتہ سال میں تقریباً 698 ارب ڈالر بڑھ گئی۔ اس اضافے نے امیر و غریب کے درمیان فرق کو مزید بڑھا دیا ہے اور معاشی عدم مساوات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کا خطرہ پیدا کیا ہے۔
رپورٹ میں ٹیسلا کے بانی ایلون مسک ، ایمازون کے بانی جیف بیزوز، بزنس مین لیری ایلسن اور میٹا کے سربراہ مارک زکر برگ جیسے ان ارب پتیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ دولت رکھتے ہیں۔ یہ افراد امریکی معیشت میں نمایاں اثر رکھتے ہیں اور ان کی دولت میں اضافہ عالمی سطح پر عدم مساوات کی علامت بن چکا ہے۔
امریکا میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ایسی پالیسیوں کو فروغ دیا جو امیر و غریب کے فرق کو بڑھانے کا سبب بنی۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 40 فیصد امریکی شہری کم آمدنی والے طبقے میں شامل ہیں، یعنی ان کی خاندانی آمدنی قومی غربت کی لکیر کے 200 فیصد سے بھی کم ہے۔
پاکستان میں بھی معاشی عدم مساوات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ملک میں امیر ترین افراد کی دولت بڑھتی جا رہی ہے، جبکہ درمیانے اور کم آمدنی والے طبقے کے لوگ مہنگائی اور روزگار کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ تقریباً 25 فیصد پاکستانی آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے، اور ایک بڑا حصہ کم آمدنی والے طبقے میں شامل ہے۔
اگر امریکی مثال سے سبق لیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی پالیسیوں میں اصلاح نہ ہونے کی صورت میں امیر و غریب کے درمیان فرق مزید بڑھ سکتا ہے۔











