پشاور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ نے واضح کیا کہ افغانستان سرحد پار دہشت گردی ختم کرے اور پاکستان افغان طالبان سے سیکیورٹی کی بھیک نہیں مانگے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم طاقت کے بل بوتے پر امن قائم کریں گے۔ افغانستان یا تو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے یا انہیں ہمارے حوالے کرے۔ افغانستان میں فی الحال کوئی عوامی نمائندہ حکومت موجود نہیں، تاہم پاکستان نمائندہ حکومت کے قیام کا حامی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ افغانستان بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے۔ افغانستان میں ہر قسم کی دہشت گرد تنظیم موجود ہے۔دہشت گردی پیدا ہو رہی ہے اور پڑوسی ممالک میں پھیل رہی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ریاستی اور سرکاری تعلق برقرار رہے گا۔ کور کمانڈر پشاور نے بھی ریاستی اور سرکاری تعلق کے تحت ملاقات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں گورنرراج کا فیصلہ حکومت کرے گی، فوج نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فوج سیاست میں نہیں الجھنا چاہتی، اسے سیاست سے دور رکھا جائے۔ ہم سیاست کرنا نہیں چاہتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں امن کے لیے فوج بھیجنے کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں سیاسی و کریمنل ڈرگ مافیا کا گٹھ جوڑ موجود ہے اور دہشت گردی میں ڈرگ کا پیسہ استعمال ہو رہا ہے۔ تیراہ میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے۔ 2025 کے دوران ملک میں 62 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے، جن میں 1667 دہشت گرد ہلاک جب کہ دہشت گرد حملوں میں 206 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ جھڑپوں میں 206 افغان طالبان اور 100 سے زائد فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت سمندر میں اور فالز فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، تاہم پاکستان نظر رکھے ہوئے ہے۔ بھارت جو بھی کرنا چاہے کرے، لیکن اگر دوبارہ حملہ کیا تو پہلے سے زیادہ شدید جواب ملے گا۔











