ماہرین نے نئی تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ رات کے وقت مصنوعی روشنی میں زیادہ وقت گزارنا دل کے امراض کے خطرات کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔
امریکی شہر نیو اورلینز میں ہونے والے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں پیش کی جانے والی تحقیق کے مطابق وہ افراد جو زیادہ مصنوعی روشنی میں رہتے ہیں، ان میں پانچ سال کے اندر دل کی بیماری کا خطرہ 35 فیصد جبکہ دس سال میں 22 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
میسا چیوسٹیس جنرل اسپتال سے منسلک اور تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر شیدی ابو ہاشم کے مطابق رات میں جتنی زیادہ روشنی کا سامنا ہوتا ہے، دل کی بیماری کا خطرہ اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ معمولی اضافہ بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے 466 بالغ افراد کی صحت اور دماغی اسکینز کا تجزیہ کیا جن کی اوسط عمر 55 سال تھی۔ ان کی رہائش کے علاقے کی روشنی کی شدت کو ان کی صحت کے اعداد و شمار سے موازنہ کیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ زیادہ روشنی دماغی دباؤ اور خون کی نالیوں میں سوزش پیدا کرتی ہے، جو وقت کے ساتھ شریانوں کی سختی، دل کے دورے اور فالج کے امکانات بڑھاتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جن علاقوں میں ٹریفک شور یا ماحولیاتی دباؤ زیادہ تھا، وہاں دل کی بیماریوں کا خطرہ مزید بڑھ گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نقصان دہ اثرات سے بچنے کے لیے لوگ اپنے کمروں کو اندھیرا رکھیں، سونے سے پہلے ٹی وی اور موبائل اسکرین کا استعمال محدود کریں، جبکہ شہروں کو بھی غیر ضروری اسٹریٹ لائٹس کم کرنے اور موشن سینسر لائٹس کے استعمال پر غور کرنا چاہیے۔
پینسیلوینیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ڈاکٹر جولیو فرنینڈیز مینڈوزا کے مطابق یہ نتائج اس بات کی مزید تصدیق کرتے ہیں کہ رات کی روشنی صرف نیند نہیں بلکہ دل کی صحت پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اس کا تعلق دماغ کے دباؤ اور جسمانی ردعمل سے جڑا ہوا ہے۔تحقیقی ٹیم اب جانچ کرے گی کہ رات کے وقت روشنی کم کرنے سے دل کی صحت میں بہتری آ سکتی ہے یا نہیں۔
ماہرین نے کہا کہ چونکہ یہ تحقیق ابھی طبی اجلاس میں پیش کی گئی ہے، لہٰذا اس کے نتائج کو ابتدائی تصور کیا جائے۔











