اہم ترین

سعودی وزارتِ حج کی عمرہ کمپنیوں کے لائسنس کے لیے 7سخت شرائط تجویز


سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے عمرہ زائرین کو خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لائسنس کے اجرا کے لیے سات نئی شرائط تجویز کی ہیں۔ یہ شرائط وزارت کی جانب سے جاری کردہ سروے پلیٹ فارم پر پیش کی گئی ہیں، جن کا مقصد عمرہ سروسز کے معیار اور شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔

سعودی اخبار 24 کے مطابق نئی تجاویز کے تحت لائسنس حاصل کرنے والی کمپنی لازمی طور پر سو فیصد سعودی شہری کی ملکیت میں رجسٹرڈ ہونی چاہیے، جبکہ کمپنی کا کم از کم سرمایہ پانچ لاکھ ریال مقرر کیا گیا ہے۔

وزارتِ حج کے مطابق لائسنس کے لیے جمع کرائی جانے والی درخواست کے ساتھ غیر مشروط بینک گارنٹی بھی شامل ہونی چاہیے، جس کی تصدیق سعودی مرکزی بینک کرے گا۔ اس کے علاوہ کمپنی کو اپنے آپریشنل پلان، مالی صلاحیت، افرادی قوت اور انتظامی ڈھانچے کی مکمل تفصیلات تحریری طور پر جمع کرانا ہوں گی۔

تجاویز میں کہا گیا ہے کہ ہر ادارے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مالی معاملات پورے کرنے کی اہلیت رکھتا ہو، اور عہدیداروں کی تبدیلی کی صورت میں وزارتِ حج کو تحریری اطلاع دی جائے۔

وزارت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ اگر کوئی کمپنی لائسنسنگ ضوابط کی خلاف ورزی کرے تو اس کا لائسنس معطل کیا جا سکے۔ خلاف ورزی کرنے والی کمپنی کو 30 دن کے اندر اصلاح کا موقع دیا جائے گا۔

تجاویز میں مزید وضاحت کی گئی کہ اگر کمپنی کا مالک وفات پا جائے تو اس کا لائسنس خودبخود منسوخ ہو جائے گا۔ اسی طرح ڈیفالٹ کی صورت میں کمپنی کے ڈائریکٹر پر لازم ہوگا کہ وہ وزارت کو تحریری طور پر مطلع کرے۔

شرائط کے مطابق اگر کسی کمپنی کا مالک اپنا لائسنس کسی دوسرے کے نام منتقل یا لیز پر دینے کا مرتکب پایا گیا تو وزیرِ حج کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ اگر کوئی کمپنی ایک سال کے دوران اپنی لائسنس یافتہ سرگرمیاں شروع نہ کرے تو اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔ تاہم، جائز وجوہات پیش کرنے پر کمپنی کو چھ ماہ کی مہلت دی جا سکتی ہے، جس کے بعد عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں لائسنس مستقل بنیادوں پر ختم کر دیا جائے گا۔

پاکستان