اہم ترین

بحرین میں چار ہزار سال پرانا کاسمیٹک پاؤڈر دریافت

جاپان کے محققین نے بحرین میں قدیم دِلمون تہذیب کے ایک تدفینی ٹیلے سے ایک ایسا مادہ دریافت کیا ہے جو ممکنہ طور پر دنیا میں استعمال ہونے والے سب سے قدیم کاسمیٹک پاؤڈرز میں سے ایک ہو سکتا ہے۔

جاپان کے سرکاری میڈیا این ایچ کے کی رپورٹ کے مطابق ٹوکیو نیشنل ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار کلچرل پراپرٹیز سے وابستہ آبے ماساشی کی سربراہی میں جاپانی تحقیقی ٹیم نے اس سال جنوری میں عالی تدفینی ٹیلے کے اندر ایک پتھریلا تدفینی کمرہ دریافت کیا، جو تقریباً چار ہزار سال پرانا ہے۔ یہ علاقہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔

محققین کے مطابق، کمرے میں سمندری سیپ کے خول بڑی تعداد میں ملے جنہیں تدفینی اشیاء کے طور پر رکھا گیا تھا۔ ان خولوں کے اندرونی حصے پر ایک سفید پاؤڈر چپکا ہوا پایا گیا۔ کیمیائی تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ پاؤڈر لاریونائٹ نامی مصنوعی سیسے کا مرکب ہے — وہی مادہ جو قدیم مصری شاہی خاندان کاسمیٹک پاؤڈر کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ بحرین کے علاقے میں اُس زمانے میں کاسمیٹکس کا استعمال رائج تھا، ممکنہ طور پر اس لیے کہ سفید اور دھوپ سے محفوظ جلد کو اُس وقت اشرافیہ اور غیر محنت کش طبقے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

آبے ماساشی کے مطابق، یہ دریافت انسانی تاریخ میں کاسمیٹکس کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے اور قدیم تہذیبوں کے درمیان ثقافتی تبادلے کے نئے پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔

پاکستان