پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں چار روزہ عالمی ٹیکنالوجی کانفرنس ویب سمٹ 2025 کا آغاز 10 نومبر سےہورہا ہے، جسے اکثر ڈیوس فار گیکس کہا جاتا ہے۔ اس تقریب میں 70 ہزار سے زائد شرکاء، 2500 اسٹارٹ اپس اور 1000 سے زیادہ سرمایہ کار شریک ہیں۔
دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں کے درمیان جنریٹیو اے آئی کے سپلائی چین پر غلبہ حاصل کرنے کی دوڑ تیز ہو چکی ہے۔ اس تناظر میں امریکی چپ ساز کمپنی کوالکوم کے سی ای او کرسٹیانو آمن کی موجودگی خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
کوالکوم نے حال ہی میں اے آئی چپس کی نئی رینج متعارف کرائی ہے، جو انوِڈیا اور اے ایم ڈی کے مقابلے میں پیش کی گئی ہے۔ تاہم، دونوں کمپنیوں کے جدید پروسیسرز پر واشنگٹن کی جانب سے قومی سلامتی کے خدشات کے باعث چین کو برآمدات کی پابندیاں عائد ہیں۔
لزبن سمٹ میں مائیکروسافٹ کے صدر بریڈ اسمتھ اور چینی اسٹارٹ اپ اسکوئرل اے آئی کی شریک بانی جولین لیانگ بھی خطاب کریں گی، جو تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر روشنی ڈالیں گی۔
اسی طرح سویڈش اسٹارٹ اپ لوویبل کے بانی انٹن اوسیکا اپنی جدید ٹیکنالوجی پیش کریں گے، جو صارفین کو کوڈنگ کے بغیر چیٹ بوٹ کے ذریعے ایپس اور ویب سائٹس بنانے کی سہولت دیتی ہے۔
برطانوی ڈکشنری پبلشر کولنز نے اس رجحان کو وائب کوڈنگ کا نام دیتے ہوئے 2025 کا لفظِ سال قرار دیا ہے۔
سرمایہ کاری بینک ڈریک اسٹار کی رپورٹ کے مطابق اس سال کی پہلی ششماہی میں کھیلوں کی نئی ٹیکنالوجی میں 30 فیصد سرمایہ کاری اے آئی کمپنیوں میں کی گئی۔
لزبن کانفرنس میں روسی ٹینس اسٹار ماریا شراپووا اور فرانسیسی کھلاڑی کیرولین گارسیا اس بات پر گفتگو کریں گی کہ مصنوعی ذہانت کس طرح کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، سمارٹ واچز اور رِنگز جیسی جدید ڈیوائسز جو نیند، دل کی دھڑکن اور جسمانی درجہ حرارت پر نظر رکھتی ہیں، بیماریوں کی ابتدائی علامات شناخت کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کر رہی ہیں۔
امریکی روبوٹکس کمپنیوں کے سربراہان بھی اس تقریب میں شریک ہیں، جن میں ایمیزون روبوٹکس کے چیف ٹائی بریڈی اور بوسٹن ڈائنامکس کے سربراہ رابرٹ پلیٹر شامل ہیں — وہی کمپنی جو اپنے کتے جیسے روبوٹس کے وائرل ویڈیوز سے مشہور ہے۔
اوبر کے صدر اینڈریو میکڈونلڈ اور لفٹ کے سی ای او ڈیوڈ رشر خودکار ٹیکسیوں کے عالمی منصوبوں پر روشنی ڈالیں گے۔
اوبر نے انوِڈیا کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2027 تک مختلف کمپنیوں کی ہزاروں گاڑیاں خودکار نظام سے لیس کی جائیں گی۔
اسی دوران، گوگل کی ذیلی کمپنی وےمو نے کہا ہے کہ اس کی ڈرائیور لیس کاریں آئندہ سال لندن میں سڑکوں پر ہوں گی۔
چینی کمپنیاں بیدو اور پونی اے آئی بھی یورپ میں خودکار گاڑیوں کے اجرا کی تیاری میں ہیں۔
یورپی کمیشن کی ڈیجیٹل چیف ہینا ورککونن نے سمٹ میں شرکت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین کو امریکی اور چینی ٹیک کمپنیوں پر انحصار کم کرنا ہوگا۔
فرانس ڈیجیٹل نیٹ ورک کی ڈائریکٹر جنرل مایا نویل نے کہا کہ ہم امریکی ہائپر اسکیلرز پر بہت زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔ اگر یورپ کو اپنی معیشت پر کنٹرول برقرار رکھنا ہے تو مقامی ٹیک حل ناگزیر ہیں۔
اسی موقع پر کم عمر صارفین میں بےحد مقبول امریکی گیم کمپنی روبلوکس بتائے گی کہ وہ بچوں کی عمر کی تصدیق کے لیے نئے حفاظتی نظام متعارف کروا رہی ہے۔
ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام آنے والے برسوں میں انسانی زندگی، معیشت اور سیاست کے خدوخال کو کس تیزی سے بدلنے جا رہے ہیں۔











