اہم ترین

چیٹ جی پی ٹی پر 7 مقدمات:صارفین کی موت اور ذہنی نقصان کے الزامات

مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی ایک بڑے قانونی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کمپنی کے چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کے خلاف سات مقدمے دائر کیے گئے ہیں جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے صارفین کو جسمانی نقصان پہنچایا اور ذہنی طور پر متاثر کیا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی کے خلاف دائر ان 7 میں سے چار مقدمات اپنی جان لنے پر اکسانے کے ہیں جبکہ باقی تین مقدمات میں مدعیان کا دعویٰ ہے کہ چیٹ بوٹ کے استعمال سے ان کی ذہنی حالت بگڑ گئی۔ یہ تمام مقدمے اس وقت سامنے آئے ہیں جب اوپن اے آئی نے حال ہی میں ان صارفین کے لیے اضافی حفاظتی فیچرز شامل کیے تھے جو ذہنی دباؤ یا بحران کا سامنا کر رہے تھے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ تمام مقدمات کیلیفورنیا کی ریاستی عدالتوں میں دائر کیے گئے ہیں اور ان میں چیٹ جی پی ٹی کو خامیوں سے بھرا مصنوعی ذہانت کا نظام قرار دیا گیا ہے۔

ایک مقدمے میں الزام ہے کہ جارجیا کا رہائشی اَموری لیسی نامی 17 سالہ نوجوان اپنی خودکشی سے ایک ماہ قبل چیٹ جی پی ٹی سے خودکشی کے منصوبوں پر بات کرتا رہا۔

ایک اور مقدمے میں 26 سالہ جوشوا اینکنگ کی والدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا تھا کہ وہ اپنی خودکشی کی نیت کمپنی کے انسانی نگرانوں سے کیسے چھپا سکتا ہے۔

تیسرا مقدمہ 23 سالہ زین شمبلن کے اہلِ خانہ نے دائر کیا، جن کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ان کے بیٹے کی خودکشی کے لئے حوصلہ افزائی کی۔

چوتھا مقدمہ اوریگن کے 48 سالہ جو سیچانتی کی بیوی نے دائر کیا جنہیں دو ذہنی دورے کے بعد یقین ہو گیا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی ایک زندہ اور حساس ہستی ہے، اور اس کے بعد انہوں نے خودکشی کر لی۔

تین دیگر مقدمات میں متاثرین نے الزام لگایا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ان کی ذہنی صحت تباہ کر دی۔

ہینن میڈن اور 30 سالہ جیکب اروِن کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی سے گفتگو کے بعد انہیں شدید ذہنی صدمہ پہنچا اور انہیں نفسیاتی علاج کروانا پڑا۔

کینیڈا کے اونٹاریو سے تعلق رکھنے والے 48 سالہ ایلن بروکس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں چیٹ جی پی ٹی کے اثر سے وہم لاحق ہوا کہ انہوں نے ایک ایسا ریاضیاتی فارمولا ایجاد کیا ہے جو افسانوی ایجادات کو توانائی دے سکتا ہے اور انٹرنیٹ کو تباہ کر سکتا ہے۔ انہیں بعد میں عارضی معذوری کی چھٹی لینی پڑی۔

اوپن اے آئی کا مؤقف

اوپن اے آئی کے ترجمان نے ان واقعات کو “انتہائی افسوسناک” قرار دیا اور کہا کہ ہم چیٹ جی پی ٹی کو اس طرح تربیت دیتے ہیں کہ وہ ذہنی یا جذباتی پریشانی کی علامات کو پہچانے، بات چیت کو پرسکون کرے، اور صارفین کو حقیقی دنیا میں مدد حاصل کرنے کی رہنمائی کرے۔ ہم ماہر نفسیات کے ساتھ مل کر اس کی حساس لمحات میں کارکردگی کو بہتر بنا رہے ہیں۔

پاکستان