ممتاز بھارتی نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے فلم انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اس وقت تخلیقی دنیا کو نیا رخ دے رہی ہے، لیکن اس کے اثرات ہمیشہ مثبت نہیں ہو سکتے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاوید اختر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت فی الحال ایک نہایت قابل معاون ہے، جیسے ایک سیکریٹری۔ مگر تخلیق کے معاملے میں یہ ابھی محدود ہے، کیونکہ کوئی بھی فن، چاہے وہ مصوری ہو، موسیقی یا شاعری—صرف شعور سے نہیں بلکہ لاشعور سے جنم لیتا ہے، اور اے آئی میں لاشعور، احساسات اور جذبات کا فقدان ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی میں بچپن کے صدمات، دل ٹوٹنے کی تکلیف یا انسانی جذبات جیسی گہرائی نہیں پائی جاتی، اسی لیے یہ انسان کی تخلیقی روح کی جگہ نہیں لے سکتی۔
جاوید اختر نے خبردار کیا کہ آنے والے پانچ سے دس سالوں میں نئی نسل کے فنکاروں کو اے آئی سے حقیقی چیلنج درپیش ہوگا۔ ان کے مطابق، یہ میرے عہد میں شاید اس سطح تک نہ پہنچے، لیکن اگلی نسل کے لیے یہ ایک بڑی تخلیقی آزمائش ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی تیزی سے مضبوط اور باصلاحیت بنتی جا رہی ہے۔











