برطانوی میگزین “دی اکانومسٹ” میں عمران خان کی اہلیہ پر بشریٰ بی بی سے متعلق خصوصی رپورٹ جاری کی ہے جس میں ان پر سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے اور کالا جادو کرنے کے الزام لگائے گئے ہیں۔
بشریٰ بی بی سے شادی نے بانی پی ٹی آئی کے انداز حکمرانی پر سوالات اٹھا دیئے۔ بانی پی ٹی آئی کی توہم پرستی پر اندھے یقین سے متعلق دی اکانومسٹ کی ہوشربا رپورٹ سامنے آگئی۔
برطانوی میگزین “دی اکانومسٹ” نے بشریٰ بی بی پر خصوصی رپورٹ جاری کی، سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیصلہ سازی پر روحانی مشاورت کا مضبوط تاثر پیدا ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہے، بشریٰ بی بی اہم تقرریوں اور سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی رہیں، ریاستی امور میں بشریٰ بی بی کا فیصلہ حرف آخر سمجھا جاتا تھا۔
رپورٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ حساس ادارے کے افراد مبینہ طور پر معلومات بشریٰ بی بی تک پہنچاتے رہے، بانی پی ٹی آئی نے اقتدار کیلئے سیاست کے بجائے توہم پرستی پر انحصار کیا۔
دی اکانومسٹ گروپ کے ڈیجیٹل میگزین میں شائع مضمون مضمون میں لکھا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے جسے روحانی پیشوا مانا، اسی سے شادی رچا لی، بشریٰ بی بی نے بانی پی ٹی آئی سے کہا تھا، مجھ سے شادی کریں وزیراعظم بن جائیں گے، بانی پی ٹی آئی ہمیشہ ڈٹے رہے کہ اُن کا تعلق روحانی رہنمائی تک محدود ہے۔
میگزین نے مزید لکھا کہ بانی پی ٹی آئی کے سابق ساتھی نے کہا کہ بشریٰ بی بی کالا جادو کرتی تھیں، بشریٰ بی بی ملازمین کے ذریعے عملیات کیلئے کالے جانور کا سر منگواتی رہیں، بانی پی ٹی آئی کا طیارہ ان کی اجازت کے بغیر اُڑان نہ بھرتا تھا، بانی نے بشریٰ بی بی کے کہنے پر وفادار ساتھیوں اور ملازمین سے دوری اختیار کی۔
دی اکانومسٹ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بشریٰ بی بی سابق وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقاتوں میں بھی موجود رہتی تھیں، کابینہ کے ایک رکن نے بتایا بشریٰ بی بی حکومتی امور میں مداخلت کرتی تھیں، بشریٰ بی بی کی کرپشن بے نقاب کرنے پر بانی نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کو عہدے سے ہٹایا بانی پی ٹی آئی نے اقتدار کیلئے مذہب کا لبادہ اوڑھے رکھا۔آئی ایس آئی اور فیض حمید نے عمران خان پر اثر انداز ہونے کے لیے بشری پیرنی کو استعمال کیا۔ آئی ایس آئی پیرنی کو اطلاعات پہنچاتی تھی اور وہ خان کو بتاتی تھیں۔ خبریں سچ ہونے پر وہ سمجھتے تھے کہ پیرنی کا براہ راست خدا سے تعلق ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم صحافیوں کے ساتھ ملکی امور کے بجائے کرکٹ اور اپنے معاشقوں پر زیادہ بات کرتے تھے، حکومت میں آنے سے پہلے بلند و بانگ دعوے کیے لیکن ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا، کرپشن کیسز نے بانی کے صاف شفاف ہونے کے دعوے کا بھانڈا پھوڑ دیا، بانی پی ٹی آئی پارٹی کو ایک جماعت کے بجائے کلٹ کی طرح چلاتے رہے۔











