اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ سے متعلق اہم امریکی قرارداد پر آج ووٹنگ متوقع ہے، جس سے قبل مسودہ کئی مرحلوں کی سخت سفارت کاری کے بعد نئی شکل اختیار کر چکا ہے۔
تازہ ترین مسودے میں اکتوبر 2023 کی جنگ کے بعد قائم ہونے والی کمزور جنگ بندی کی توثیق کی گئی ہے اور غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) تعینات کرنے کی اجازت طلب کی گئی ہے، جو اسرائیل، مصر اور تربیت یافتہ فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر سرحدی علاقوں کی سکیورٹی اور خطے کے غیر فوجی بنانے میں کردار ادا کرے گی۔
مجوزہ فورس کا دائرہ کار غیر ریاستی مسلح گروہوں کو اسلحے سے محروم کرنے، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنانے تک پھیلا ہوا ہو گا۔ مسودے میں غزہ کے لیے ایک عبوری حکومتی ڈھانچے ’بورڈ آف پیس‘ کی تشکیل کی تجویز بھی شامل ہے، جس کی مدت 2027 کے اختتام تک ہو گی۔
اس بار کے مسودے میں پہلی مرتبہ مستقبل میں فلسطینی ریاست کے امکان کا ذکر کیا گیا ہے۔ مسودے کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات اور غزہ کی تعمیرِ نو کی پیش رفت کے بعد “فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے لیے ایک قابلِ اعتماد راستہ” ہموار ہو سکتا ہے۔ تاہم اسرائیل نے اس امکان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ ان کا فلسطینی ریاست کی مخالفت کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔
دوسری جانب سلامتی کونسل کا مستقل رکن روس امریکی مسودے کا مخالف ہے اور اس نے اپنا متبادل متن پیش کیا ہے جس میں دو ریاستی حل کے لیے “غیر متزلزل عزم” کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ روسی مسودہ نہ تو ISF کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی بورڈ آف پیس کے قیام کی حمایت کرتا ہے، بلکہ ان معاملات پر سیکریٹری جنرل سے تجاویز طلب کرتا ہے۔
امریکا کا دعویٰ ہے کہ اسے قطر، مصر، سعودی عرب، پاکستان، یو اے ای، ترکی اور انڈونیشیا سمیت کئی مسلم ممالک کی حمایت حاصل ہے۔
ماہرین کے مطابق روس اور چین ممکنہ طور پر ووٹنگ میں حصہ لینے سے گریز کریں گے، تاہم قرارداد کی منظوری کے امکانات موجود ہیں۔











