اہم ترین

سلامتی کونسل میں غزہ کے لیے بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کی منظوری

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے کی توثیق اور فلسطین میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی سے متعلق قرارداد منظور کرلی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ کے لیے ایک عبوری انتظامی اتھارٹی اور بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جو خطے کی تعمیرِ نو، بحالی اور غیر عسکریت پسندی کے عمل کی نگرانی کرے گی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ اسرائیل اور حماس ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے پہلے مرحلے پر متفق ہو چکے ہیں۔ قرارداد میں اس منصوبے کو ضمیمے کی صورت میں شامل بھی کیا گیا ہے۔

قرارداد کے حق میں پاکستان سمیت سلامتی کونسل کے 13 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ روس اور چین غیر حاضر رہے۔ یہ غیر حاضری خاص طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے قبل اشارے مل رہے تھے کہ روس شاید قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔

قرارداد کے متن کے مطابق رکن ممالک ایک مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں حصہ لے سکیں گے، جو ایک عبوری ادارے کے طور پر غزہ کی تعمیرِ نو، اقتصادی بحالی اور سول انتظام کی نگرانی کرے گا۔

سلامتی کونسل نے ایک بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کے قیام کی بھی منظوری دی ہے، جس کا بنیادی مقصد غزہ کو غیر عسکری بنانا ہے۔ آئی ایس ایف ہتھیاروں کی وصولی، عسکری ڈھانچے کے خاتمے اور سیکیورٹی صورتحال کی بہتری پر کام کرے گی۔ اس فورس کا قیام ان ممالک کے لیے اعتماد سازی کا باعث سمجھا جا رہا ہے جو غزہ میں فوج بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔

ووٹنگ کے بعد امریکا کے اقوامِ متحدہ میں سفیر مائیک والز نے قرارداد کی منظوری کو تاریخی اور تعمیری قرار دیتے ہوئےکہاکہ ہم ان تمام ارکان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس کوشش میں ہمارا ساتھ دیا۔ اس فیصلے کا مقصد مشرقِ وسطیٰ، اسرائیلیوں، فلسطینیوں اور پورے خطے کے لیے ایک نیا راستہ متعین کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرارداد کی منظوری پُرامن اور خوشحال غزہ اور اسرائیل کے محفوظ مستقبل کے لیے ایک اور اہم قدم ہے۔

پاکستان