اہم ترین

بٹ کوائن سرمایہ کاروں کو کھربوں کا نقصان؛ سونا، چاندی اور شیئر بازارآسمان پر

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن، جس کے بارے میں کبھی توقع کی جاتی تھی کہ وہ چاند تک جائے گی ، اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ 2025 میں اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 30 فیصد نیچے آنے کے بعد بٹ کوائن کی کارکردگی نہ صرف روایتی اثاثوں سے پیچھے رہ گئی ہے بلکہ سونے، ٹیک کمپنی شیئرز اور یوٹیلیٹیز جیسے شعبے بھی اس سے بہتر نتائج دکھا رہے ہیں۔

بلوم برگ کی رپورٹ کےمطابق ایک عرصے تک بٹ کوائن کو مہنگائی سے بچاؤ، تیز رفتار سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو میں تنوع فراہم کرنے والے آلے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، مگر موجودہ سال میں یہ تمام دعوے کمزور پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

بٹ کوائن کے حامی عرصہ دراز سے سونےپر سرمایہ کاری کو فرسودہ سوچ کہتے آئے ہیں ، لیکن اب یہی سنہری دھات اب واضح طور پر ڈیجیٹل کرنسی سے بہتر منافع دے رہی ہے۔

اسی طرح اسٹاک ایکسچینج ، طویل مدتی بانڈز اور ایم ایس سی آئی جیسی ابھرتی معیشتوں کا انڈیکس بھی بڑھتی کارکردگی دکھا رہاہے، جبکہ بٹ کوائن مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔

رواں ہفتے بٹ کوائن 90 ہزارامریکی ڈالرز کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے آگیاتھا۔یہ وہی سطح ہے جس کے آس پاس سے بٹ کوائن ای ٹی ایف میں ببی سرمایہ کاری ہوئی تھی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان فنڈز میں شامل کئی سرمایہ کاروں کو عارضی طور پر نقصان کا سامنا ہے ۔

رواں برس یعنی 2025 کو کرپٹو مارکیٹ کے لیے بڑا سال سمجھا جا رہا تھا۔ وائٹ ہاؤس کی کرپٹو حامی پالیسی، مختلف ٹوکنز پر ای ٹی ایف کی منظوری اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری نے امید دلائی تھی کہ بٹ کوائن مرکزی مالیاتی دنیا میں مضبوط جگہ بنا لے گا۔ لیکن شدید اتار چڑھاؤ، اکتوبر کی بڑی کریش، اور عالمی مارکیٹوں میں عدم استحکام نے یہ بیانیہ کمزور کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق 10 اکتوبر کو ہونےوالی کرپٹو کرنسی کریش سے 19 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

دوسری جانب ماہرین عالمی معاشی سست رفتاری، چینی مارکیٹ کی کمزوری اور ٹیک اسٹاکس کی ویلیوایشن میں کمی کو بھی بٹ کوائن کی گراوٹ کی بڑی وجوہات قرار دے رہے ہیں۔

ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ میں بھی منفی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہے۔ ڈیٹا کے مطابق سال کے اختتام تک بٹ کوائن کے دوبارہ اپنی انتہائی سطح ایک لاکھ 26 ہزار ڈالر تک دوبارہ پہنچنے کے امکانات 5 فیصد سے بھی کم ہیں۔

پاکستان